عورتوں کا مسجد میں درس و بیان کرنے کا حکم

عورتوں کا مسجد میں درس و بیان کرنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا عورتیں مسجد میں جاکر درس وبیان اور لنگر وغیرہ تقسیم کر سکتی ہیں اور عورتیں جب پڑھتی ہیں تو بغیر مائک کے پڑھتی ہیں لیکن آواز مسجد سے باہر جاتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمادیں۔

User ID:حافظخالد حسین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ عورتوں کا مسجد میں جا کر درس و بیان کرنا اور لنگر وغیرہ تقسیم کرنا شرعا ممنوع ہے کیونکہ عورتوں کے لیے مسجد جانے کی مطلقا ممانعت ہے اور لنگر وغیرہ عین مسجد میں تقسیم کریں تو مسجد کی بے ادبی کا اندیشہ ہے اور عورتوں کا اتنی آواز سے پڑھنا کہ آواز غیر محرم تک جائے یہ بھی شرعا درست نہیں کیونکہ عورت کی نغمہ بھری آواز کا بھی پردہ لازم ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ” لو ادرک رسول ﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل“ ترجمہ: اگر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انہیں مسجد سے منع فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔

( صحیح البخاری،کتاب الاذان،باب خروج النساء الی المساجد، جلد1،صفحہ120 ، قدیمی کتب خانہ ،کراچی )

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:”نا جائز ہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اورعورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سنے محل فتنہ ہے۔“

(فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ240، رضا فاؤنڈیشن، لاهور )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

11جمادی الاولی 5144 ھ27نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں