شادی کی کچھ ناجائز رسومات

شادی کی کچھ ناجائز رسومات

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ شادی میں بے پردہ لڑکیوں کا بارات پر پھول نچھاور کرنا،دلہن کی بہنوں کا لڑکے کو دودھ پلا کر پیسے لینا ،لڑکے والوں کی طرف سے لڑکوں کا دلہن کی بہنوں سے بحث و مباحثہ کرنا ،وغیرہ ان رسومات کا شرعی حکم کیا ہے؟

User ID:بٹ منیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ بیان کردہ تمام رسومات غیر شرعی و ناجائز و حرام ہیں انہیں ختم کرنا لازم ہے کیونکہ لڑکیوں کا بے پردہ ہو کر بارات پر پھول نچھاور کرنا سالیوں کا دولہے کو دودھ پلانا اور لڑکوں کا لڑکیوں کے بحث و مباحثہ کرنا بے پردگی و بے حیائی ہے جس کی شرعا بالکل اجازت نہیں۔اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے:” قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)“ترجمہ:مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔

(القرآن،سورۃ النور:30)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

3جمادی الاولی 5144 ھ18 نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں