سیدنا یوسف کو دریائے نیل میں دفن کرنے کی وجہ

سیدنا یوسف کو دریائے نیل میں دفن کرنے کی وجہ

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو دریائے نیل میں دفن کرنے کی کیا وجہ تھی؟

User ID:فقیر محمد جمیل نقشبندی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریائے نیل میں اس لیے دفن کیا گیا تاکہ تمام مصر کے لوگ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی قبر سے گزرے ہوئے پانی سے فیض یاب ہو سکیں ۔ مدار ک و خازن میں ہے:حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے والد ماجد کے بعد 23 سال زندہ رہے، اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات ہوئی، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقامِ دفن کے بارے میں اہلِ مصر کے اندر سخت اختلاف واقع ہوا، ہر محلہ والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن کرنے پر مُصر تھے، آخر یہ رائے طے پائی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ پانی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر سے چھوتا ہوا گزرے اور اس کی برکت سے تمام اہلِ مصر فیض یاب ہوں چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سنگِ رِخام یا سنگِ مرمر کے صندوق میں دریائے نیل کے اندر دفن کیا گیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہیں رہے یہاں تک کہ 400 برس کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تابوت شریف نکالا اور آپ کو آپ کے آبائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس ملکِ شام میں دفن کیا۔

(مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ص۵۴۶، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳ / ۴۷، ملتقطاً)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

3ربیع الثانی 5144 ھ19 اکتوبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں