سکول،مسجد،مدارس کے بچوں سے جرمانہ لینا

سکول،مسجد،مدارس کے بچوں سے جرمانہ لینا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سکول،مسجد،وغیرہ میں بچوں کی چھٹیوں یا لیٹ آنے پر مالی جرمانہ کیا جاتا ہے شرعا اس کا کیا حکم ہے؟

User ID:فاروق رضا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ بچوں سے مالی جرمانہ لینا ناجائز و حرام ہے اسلام میں مالی جرمانہ جائز نہیں بلکہ منسوخ ہے ۔چنانچہ بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام، ثم نسخ‘‘ ترجمہ:مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا۔

(بحرالرائق شرح کنز الدقائق،ج5،ص68،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت)

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں:’’تعزیر بالمال منسوخ ہےاور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔درمختار میں ہے:’’ لا باخذمال فی المذھب‘‘ترجمہ:مالی جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔‘‘

(فتاوی رضویہ،ج5،ص111،مطبوعہ رضافاونڈیشن،لاھور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

11جمادی الاولی 5144 ھ27نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں