امام کی آواز سنے بغیر رکو ع و سجود کیے تو
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ہمارے ہاں نماز پڑھتے ہوئے لائٹ چلی گئی اور امام صاحب کی آواز ہم تک نہیں پہنچی جس کی وجہ سے رکوع و سجود اندازے سے کیے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
User ID:محمد عثمان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ اندازے سے رکوع و سجود کرنے والوں کی نماز نہیں ہوئی کیونکہ اقتداء کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ امام کے انتقالات کا دیکھ کریا سن کر علم ہو اور یہاں یہ شرط نہیں پائی گئی لہذا اقتداء درست نہ ہوئی جب اقتداء درست نہیں تو نماز بھی نہ ہوئی لہذا ان سب پر نماز لوٹانا فرض ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے:ولو قام على سطح المسجد واقتدى بإمام في المسجد إن كان للسطح باب في المسجد ولا يشتبه عليه حال الإمام يصح الاقتداء وإن اشتبه عليه حال الإمام لا يصح. كذا في فتاوى قاضي خان. ترجمہ: اگر بندہ مسجد کی چھت پر کھڑا ہو گیا اور مسجد میں موجود امام کی اقتداء کی تو اگر چھت کا دروازہ ہو جس سے امام کی حالت مقتدی پر مشتبہ نہ ہو تو اقتداء درست ہو جائے گی اور اگر حالت مشتبہ ہو گئی تو اقتداء درست نہیں ہو گی ایسا ہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔
(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الرابع في بيان ما يمنع صحة الاقتداء وما لا يمنع، ج:1، ص:88، ط: رشيدية)
البحر الرائق میں ہے: الثاني:علمه بانتقالات إمامه برؤية أو سماع، فإن كان بينهما حائل يشتبه عليه انتقالاته لم يصح ترجمہ: دوسری شرط مقتدی کا امام کے انتقالات کا علم ہونا ہے دیکھنے یا سننے کے ساتھ پس اگر ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جس کی وجہ سے مقتدی پر امام کے انتقالات مشتبہ ہو جائیں تو اقتداء درست نہیں ۔ (البحر الرائق ،كتاب الصلاة، باب الإمامة، شرائط صحة الإمامة، ج:1، ص:365، ط: دار الكتاب الإسلامي)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
11ربیع الثانی 5144 ھ27 اکتوبر 2023 ء