یہ کہنا کہ ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھ لو ، اللہ پاک دل دیکھتا ہے ظاہر نہیں دیکھتا
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ یہ کہنا کہ کپڑے پاک ہوں یا ناپاک نماز پڑھ لو اللہ پاک ظاہر کو نہیں دلوں کو دیکھتا ہے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟
User ID:محمد ندیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ یہ جملہ کہنا بالکل غلط اور شریعت مطہرہ کے خلاف ہے اور اگر نماز کو ہلکا جان کر کہا تو بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گانماز کے لیے طہارت(جسم،لباس،جگہ) کا پاک ہونا شرط ہے بغیر پاکی نماز درست نہیں ہوتی لہذا ایسا کہنے والے پر اپنے اس قول سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے اور مذکورہ بالا جملے کا یہ حصہ کہ اللہ پاک دلوں کو دیکھتا ہے ظاہری شکلوں کو نہیں دیکھتا حدیث پاک کا مفہوم ہے اور اس کا یہ مفہوم ہر گز نہیں جو سوال میں بیان کیا گیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک انسان کی ظاہری خوبصورتی و حسن کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں کی خوبصورتی و صفائی کو دیکھتا ہے، یہ اس لیے فرمایا گیا کہ بندہ ظاہر کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی پاکیزہ رکھے ،ظاہر و باطن یکساں ہونے چاہییں۔ حدیث شریف میں ہے : اِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ اِلٰی اَجْسَادِكُمْ ، وَلَا اِلٰى صُوَرِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ اِلٰى قُلُوبِكُمْ یعنی بے شک اللہ پاک تمہارے جسموں اور صُورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ اللہ پاک تو تمہارے دِل دیکھتا ہے۔ (مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم ظلم المسلم ، صفحہ : 995 ، حدیث : 2564)
امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا، دِل رَبُّ الْعَالَمِیْن کی نظر کا مقام ہے ، تعجب ہے اس شخص پر جو ظاہِر کو سنوارنے کا اہتمام کرے ، اپنا ظاہِر دھوئے ، میل کچیل سے ستھرا کرے تاکہ لوگ اس کےکسی ظاہری عیب کو نہ دیکھ سکیں مگر دِل کی صفائی کا اہتمام نہ کرے جو رَبُّ الْعَالَمِیْن کی نظر کا مقام ہے۔ (منہاج العابدین ،صفحہ149)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
11ربیع الثانی 5144 ھ27 اکتوبر 2023 ء