پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید

پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہوتا ہے؟

User ID:جنید

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ پیٹ کی بیماری میں مرنے والے کے لیے شہادت کا درجہ ہے اور ایسا شخص شہید حکمی کہلائے گا کہ شہادت کی فضیلت پائے گا لیکن شہید حقیقی والے احکام اس پے لاگو نہیں ہوں گے اسے غسل و کفن دیا جائے گا۔سنن ابو داؤد میں ہےحضور ﷺنے فرمایا : اَلشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ : اَلْمَطْعُونُ شَہِیدٌ ، وَالْغَرِقُ شَہِیدٌ ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ ، وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ ، وَصَاحِبُ الْحَرِیقِ شَہِیدٌ ، وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ ، وَالْمَرْأَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَہِیدٌ یعنی اللہ کے راستے میں قتل ہونے کے علاوہ سات شہادتیں ہیں : (1)جو طاعون سے وفات پائے (2)جو ڈوب کر وفات پائے (3)ذَاتُ الْجَنْب میں وفات پائے (4)جو پیٹ کی بیماری کی وجہ سے وفات پائے (5)جو جل کر وفات پائے (6)جو کسی چیز کے نیچے دب کر فوت ہوجائے (7)جو عورت جُمْع کی حالت میں فوت ہو۔

(ابو داؤد ، 3 / 253 ، حدیث : 3111)

اس حدیث پاک کے تحت مرقاۃ میں ہے:اس حدیثِ پاک میں بیان کیا گیا کہ شہادت جو کہ ایک عظیمُ الشّان منصب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوئے جان دینے کے علاوہ بھی بعض صورتوں میں حاصل ہوتا ہے ، یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوئے جان دینے کو شہادتِ حقیقیہ سے مَوسُوم کیا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ کو شہادتِ حُکمیہ کہا جاتا ہے۔

(مرقاۃ المفاتیح ، 4 / 39 ، تحت الحدیث : 1561ماخوذاً)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

7جمادی الاولی 5144 ھ22نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں