ٹشو پیپر سے استنجاء کرنے کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ٹشو پیپر سے استنجاء کرنے کا کیا حکم ہے؟
User ID:عبد الکریم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ٹشو پیپر سے استنجاء کرنا بلا شبہ جائز ہے کیونکہ یہ حقیقتا کاغذ نہیں اور نہ ہی یہ تعلیم و تعلم کا ذریعہ ہے کہ اس کا استعمال مکروہ ہو لہذا اس کا استعمال کرنے میں شرعا کوئی ممانعت نہیں۔فتاوی یورپ میں ہے:”عام کتب فقہ میں کاغذ سے نجاست صاف کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ یہ تعلیم و تعلم کا ذریعہ ہے،ٹویلٹ پیپر بھی اگرچہ کاغذ ہی کی قسموں میں سے ایک ہے لیکن اس کے بنانے والوں سے اسے تعلیم و تعلم کے لئے نہیں بلکہ خاص اسی کام کے لئے بنایا ہے اسی لئے وہ کھردار اور جاذب ہے،پھر وہ یورپی ممالک میں مٹی کے ڈھیلوں سے زیادہ سستا اور سہل الحصول ہے،پھر ڈھیلوں کے استعمال کے بعد ہفتہ عشرہ میں بیریل کی صفائی پر جس قدر صرفہ ہوتا ہے اسی قدر صرفہ سے اتنا زیادہ ٹویلیٹ پیپر خریدا جا سکتا ہے جو سالوں سال کام آسکے،ان دونوں باتوں کے پیش نظر بالکل واضح ہے کہ ٹویلٹ پیپر کے استعمال میں نہ تو ذریعہ تعلیم و تعلم کی توہین ہے اور نہ ہی تضییع مال بلکہ پاکیزگی و نظافت حاصل کرنے کا آسان اور کم قیمت ذریعہ ہے لہذا اس کے استعمال میں کوئی حرج و کراہت نہیں ہونی چاہیے۔
(فتاوی یورپ،کتاب الطہارہ،صفحہ 110،مکتبہ جام نور، دہلی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
29 ربیع الاول 5144 ھ16 اکتوبر 2023 ء