ولیمہ کرنے کا شرعی حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ولیمہ کرنا واجب ہے یا سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
User ID:فیصل اختر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ ولیمہ کرنا سنت مستحبہ ہے یعنی کر لیا تو ثواب نہ کیا تو گناہ نہیں جبکہ اسے حق جانتے ہوں ۔ ولیمہ کے سنت مستحبہ ہونے کے بارے میں سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’ولیمہ بعد نکاح سنت ہے،اس میں صیغہ امر بھی وارد ہے،عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ’’اولم ولو بشاۃ‘‘ولیمہ کر اگرچہ ایک ہی دنبہ یا اگرچہ ایک دنبہ۔دونوں معنی محتمل ہیں اور اول اظہر،تارکان سنت ہیں،مگر یہ سنن مستحبہ سے ہے،تارک گناہ گار نہ ہوگا اگر اسے حق جانے۔‘‘
(فتاوی رضویہ،جلد11،صفحہ278،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
11ربیع الثانی 5144 ھ27 اکتوبر 2023 ء