وتر کی تیسری رکعت میں تین بار سبحان اللہ کہنا
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ وتر کی تیسری رکعت میں تین بار سبحان اللہ کہہ کر الھم اجرنی من النار پڑھ لیا تو کیا نماز ہو جائے گی؟
User ID:حافظ حفیظ اللہ برکاتی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں وتر ادا نہیں ہوں گے کیونکہ وتر و نوافل کی ہر رکعت میں قراءت فرض ہے اور پوچھی گئی صورت میں فرض ادا ہی نہیں ہوا لہذا وتر دوبارہ پڑھے جائیں گے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:مطلقاً ایک آیت پڑھنا فرض کی دو رکعتوں میں اور وتر و نوافل کی ہر رکعت میں امام و منفردپر فرض ہے۔ اور مقتدی کو کسی نماز میں قراء ت جائز نہیں ، نہ فاتحہ، نہ آیت، نہ آہستہ کی نماز میں ، نہ جہر کی میں ۔ امام کی قراءت مقتدی کے لیے بھی کافی ہے۔
(بہار شریعت،نماز کی سنتوں کا بیان، جلد 1، حصہ 3 ،صفحہ 516، مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
3ربیع الثانی 5144 ھ19 اکتوبر 2023 ء