نماز میں خوف خدا کے سبب رونا

نماز میں خوف خدا کے سبب رونا

سوال: کیا نماز میں ہم اپنے گناہوں کا سوچ کرجہنم کے خوف سے رو سکتے ہیں یا نہیں؟

User ID:جاوید اقبال

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نماز میں خوف خدا ،جہنم کے خوف،گناہوں پر ندامت کے سبب رونا بلکل جائز اور احادیث سے ثابت ہے اور اس وجہ سے رونے میں نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا البتہ تکلیف و درد کی وجہ سے رونے کے دوران اگر دو حروف نکل گئے جیسے آہ،اف ،تف وغیرہ تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ فتاوی ھندیہ میں ہے:ولو أنّ في صلاته أو تأوه أو بكى فارتفع بكاؤه فحصل له حروف فإن كان من ذكر الجنة أو النار فصلاته تامة وإن كان من وجع أو مصيبة فسدت صلاته ولو تأوه لكثرة الذنوب لايقطع الصلاة ولو بكى في صلاته۔ ترجمہ: اگر نماز میں بلند آواز سے رویا اور اس سے آہ ، اوہ کے الفاظ پیدا ہوئے اگر تو جنت یا جہنم کے تذکرہ کے وقت ایسا ہوا تو نماز درست ہے اور اگر کسی تکلیف یا دنیاوی مصیبت کی وجہ سے رویا اور الفاظ پیدا ہوئے تو نماز فاسد ہو جائے گی۔

(فتاوی ھندیہ جلد 1 صفحہ 101 دارالفکر بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

5 ربیع الاول 5144 ھ22 ستمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں