نفس کی تعریف و اقسام

نفس کی تعریف و اقسام

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ نفس کسے کہتے ہیں؟

User ID:محمد رضوان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نفس:لغوی اعتبارسے،روح،جان،خون،کسی چیزکی ذات ، خواہش ،ارادہ،وغیرہ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔

(قاموس الوحید،ص1284)

اور اصطلاحا نفس: ایسا لطیف جوہر ہے، جو زندگی ،احساس اور ارادۃحرکت کرنے کی طاقت و قوت رکھتا ہو۔ حکمااسے روح حیوانی کہتے ہیں ۔

(التعریفات للجرجانی،صفحہ242، مطبوعہ :بیروت )

احیاء العلوم میں ہے: اصطلاح صوفیاء میں انسان کے اندر( شہوت، غصہ وغیرہ) مذموم صفات جمع کرنے والی قوت کو نفس کہتے ہیں ۔

(احیاءالعلوم مترجم ،جلد3،صفحہ15مطبوعہ مکتبۃالمدینہ کراچی)

اسی میں ہے: نفس کی بہت اقسام ہیں ،جن میں سے تین اقسام مشہور ہیں : (1)نفس امارہ (2)نفس لوامہ (3)نفس مطمئنہ۔ (1)نفس مطمئنہ: خواہشات سے مقابلہ کرتے کرتے ،جب یہ احکام الہی کاپابندہوجاتااوراس کی بے قراری دورہوجاتی ہے تو ایسے نفس کو “نفس مطمئنہ “کہتےہیں ۔ (2)نفس لوامہ :اگراس کی بے قراری مکمل دورنہ ہو(یعنی اسےخواہشات پرغلبہ حاصل نہ ہو)لیکن خواہشات کی مخالفت مسلسل کرتارہے ان سے مقابلہ کرتارہے تواس وقت اسے “نفس لوامہ”کہاجاتاہے ۔ نفس امارہ : اگریہ ملامت کرناچھوڑدے اورخواہشات کی پیروی اورشیطانی باتوں کی اتباع کرے تواسے” نفس امارہ ” کہتے ہیں ۔

(احیاءالعلوم مترجم ،جلد3،صفحہ15مطبوعہ مکتبۃالمدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

22ربیع الثانی 5144 ھ7 نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں