لڑکے کے عقیقے میں ایک جانور ذبح کرنا

لڑکے کے عقیقے میں ایک جانور ذبح کرنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ عقیقے کے جانور میں لڑکے کے لیے دو جانور ہونا ضروری ہیں یا ایک بھی کافی ہے؟

User ID:محمد رضوان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ لڑکے کے عقیقے میں دو بکرے (یعنی دو نر جانور) ذبح کرنا بہتر ہے۔ البتہ اگر ایک بکرا یا ایک بکری بھی ذبح کی، تو عقیقہ کی سنت ادا ہوجائے گی۔ ابو داود و ترمذی و نسائی نے اُمّ کرز رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہتی ہیں میں نے رسول اﷲ ﷺکو فرماتے سُنا کہ’’ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک اس میں حرج نہیں کہ نر ہوں یا مادہ۔‘‘

(’’ سنن أبي داود ‘‘ ،کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث: ۲۸۳۵ ،ج ۳ ،ص ۱۴۱)

ترمذی نے اَمیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں رسول اﷲ ﷺنے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے عقیقہ میں بکری ذبح کی اور یہ فرمایا کہ’’ اے فاطمہ اس کا سرمونڈا دو اور بال کے وزن کی چاندی صدقہ کرو‘‘ ہم نے بالوں کو وزن کیا تو ایک درہم یا کچھ کم تھے۔

(جامع الترمذی ،باب العقیقۃ بشاۃ، الحدیث: ۱۵۲۴ ، ص ۱۷۵۔5)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

15ربیع الثانی 5144 ھ31 اکتوبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں