صرف پہلی اذان کا جواب مستحب ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بندہ کسی کام میں مصروف ہو اور اذان شروع ہو جائے تو کام روک کر پہلی اذان کا جواب دے کر دوبارہ سے کام شروع کر سکتا ہے جبکہ دیگر اذانیں ہو رہی ہوں؟ یا ہر اذان کا جواب دینا ہو گا؟
User ID:حسنات اسلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ پہلی اذان کو خاموشی سے سن کر اس کا جواب دے کر کام کرنے میں حرج نہیں کیونکہ پہلی اذان کا جواب دینا مستحب ہے البتہ بہتر ہے کہ تمام اذانوں کا جواب دیا جائے۔ردالمحتار میں ہے : و لو تکررای بان اذن واحد بعد واحد ۔ ۔ ۔ اجاب الاول یعنی : اگر ایک کے بعد ایک اذان دے تو سننے والاپہلی کا جواب دے۔
(رد المحتار مع در مختار ،جلد 2، صفحہ82،بیروت)
صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ بہارِ شریعت میں لکھتے ہیں : “ اگر چند اذانیں سنے تو اس پر پہلی ہی کا جواب ہے اور بہتر یہ کہ سب کا جواب دے۔
(بہارشریعت ، جلد1 صفحہ 473،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
7جمادی الاولی 5144 ھ22نومبر 2023 ء