دانتوں پر خول چڑھانے کا حکم
سوال: دانتوں کو کیڑا لگنے کی صورت میں دانتوں پر خول چڑہانا کیسا ہے؟اور وضو و غسل میں اسے اتارنا ضروری ہے یا نہیں ؟اور مصنوعی داڑھ مسوڑھے سے لگوانے کا کیا حکم ہے ؟
User ID:عتیق رحمن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ضرورتا دانتوں پر خول چڑھانا شرعی طور پر جائز ہے اور اگر کسی نے خول چڑہایا ہو اگر وہ خول منہ میں فکس نہیں ہے کہ بآسانی اتر جاتا ہے ، تو اس کو اتار کر وضو و غسل کرنا ہوگا اور اگر ایسا فکس ہے کہ بآسانی اتر نہیں سکتا ، بلکہ اتارنا تکلیف دہ ہے ، تو وضو و غسل کرتے ہوئے اگرچہ اس کے نیچے پانی نہ بھی جائے ، اس کو اتارنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے بغیر ہی وضو و غسل ہوجائے گا اور اس کے نیچے پانی نہ پہنچانے کو وُضو میں ترکِ سنّت اور غسل میں ترکِ فرض قرار نہ دیا جائے گا ایسے ہی تار سے باندھا ہو یا کسی مسالے وغیرہ سے جمایا ہو یا دانتوں میں چونا یا مِسِّی کی ریخیں جم گئی ہوں تو شرعی طور پر اس کے نیچے پانی بہانا ضَروری نہیں یونہی مصنوعی دانت لگوانے کی صورت میں اگر دانت کو اُتارنا حرج و مَشَقَّت کا باعث ہو تو اُتار کر نیچے پانی بہانے کی حاجت نہیں۔
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
29صفر المظفر5144 ھ16 جولائی 2023 ء