حطیم کعبہ میں نماز پڑھنے کا حکم

حطیم کعبہ میں نماز پڑھنے کا حکم

سوال: حطیم کعبہ میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

User Idارسلان علی :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حطیم کعبہ میں نماز پڑھنا جائز ہے اور جس نے حطیم کعبہ میں نماز پڑھی ،اس نے کعبہ میں نماز پڑھی کیونکہ حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے۔ سنن ترمذی میں ہے:عن عائشة، قالت: كنت احب ان ادخل البيت فاصلي فيه، فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي فادخلني الحجر، فقال: صلي في الحجر إن اردت دخول البيت، فإنما هو قطعة من البيت، ولكن قومك استقصروه حين بنوا الكعبة، فاخرجوه من البيت ترجمہ: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم کے اندر کر دیا اور فرمایا: ”اگر تم بیت اللہ کے اندر داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھ لو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے، لیکن تمہاری قوم کے لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے چھوٹا کر دیا، اور اتنے حصہ کو بیت اللہ سے خارج کر دیا۔ (سنن ترمذی، كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي الْحِجْرِ،رقم الحدیث876)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

8ربیع الاول 5144 ھ26 ستمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں