سوال: امام صاحب نے نماز تراویح میں اگر رکوع کے اندر سجدہ تلاوت کی نیت کی اور مقتدیوں کو نہیں بتایا تو مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ سائل: نعیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں اگرامام نے رکوع کے اندر سجدہ تلاوت کی نیت کی تویہ نیت ناکافی ہے،کیونکہ نیت رکوع میں جاتے وقت کرنا ضروری ہے، لیکن جب امام اور مقتدی دونوں نماز کے سجدے میں چلے گئے توخواہ سجدہ تلاوت کی نیت ہو یا نہ ہو امام اور مقتدی سبھی کا سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا۔ لہٰذا امام کو چاہیے کہ رکوع میں سجدہ کی نیت نہ کرے کہ مقتدیوں نے اگر نیت نہ کی تو ان کا سجدہ ادا نہ ہوگا۔
بہار شریعت میں ہے: رکوع جاتے وقت سجدہ کی نیت نہیں کی بلکہ رکوع میں یا اٹھنے کے بعد کی تو یہ نیت کافی نہیں۔ (جلد1، حصہ4، صفحہ734)
بہار شریعت میں ایک اور مقام پر ہے: اگر امام نے رکوع سے سجدۂ تلاوت کی نیت نہ کی تو اسی سجدۂ نماز سے مقتدیوں کا بھی سجدۂ تلاوت ادا ہوگیا اگرچہ نیت نہ ہو، لہٰذا امام کو چاہیے کہ رکوع میں سجدہ کی نیت نہ کرے کہ مقتدیوں نے اگر نیت نہ کی تو ان کا سجدہ ادا نہ ہوگا اور رکوع کے بعد جب امام سجدہ کریگا تو اس سے سجدۂ تلاوت بہرحال ادا ہو جائے گا نیت کرے یا نہ کرے پھر نیت کی کیا حاجت۔ (جلد1، حصہ4، صفحہ734،735)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
مولانا محمد منور علی اعظمی مدنی