اس سال زیادہ ادا کی گئی زکوۃ اگلے سال میں شمار کرنا
سوال:مفتی صاحب، ہم نے اپنی زکوٰۃ کی رقم اس بار حساب کتاب سے زیادہ ادا کی تو کیا اگلے سال اسے ایڈجسٹ کر سکتے ہیں؟
(سائل:محمد افتخار خان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں زیادہ ادا کی گئی رقم کو اگلے سال کی زکوۃ میں شُمار کرنا دُرست ہے، اور اس سے ایڈوانس میں اگلے سال کی اتنی زکوۃ ادا ہو جائے گی،کیونکہ شرعا ایڈوانس میں زکوۃ ادا کرنا دُرست ہے، چنانچہ البحرالرائق اور المحیط البرہانی میں ہے : وفي الولوالجية وغيرها رجل عنده أربعمائة درهم فظن أن عنده خمسمائة درهم فأدى زكاة خمسمائة فله أن يحتسب الزيادة للسنة الثانية؛ لأنه أمكن أن تجعل الزيادة تعجيلا . [ابن نجيم،البحر الرائق شرح كنز الدقائق ، كتاب الزكاة ،باب زكاة المال، 2/242]
[ابن مَازَةَ، المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب الزكاة ،الفصل التاسع ، ٢٩٣/٢]
بہار شریعت میں ہے : مالک نصاب پیشتر سے چند سال کی بھی زکاۃ دے سکتا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا زکاۃ میں دیتا رہے، ختم سال پر حساب کرے، اگر زکاۃ پوری ہوگئی فبہا اور کچھ کمی ہو تو اب فوراً دیدے، تاخیر جائزنہیں کہ نہ اُس کی اجازت کہ اب تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرے، بلکہ جو کچھ باقی ہے کُل فوراً ادا کر دے اور زیادہ دے دیا ہے تو سال آئندہ میں مُجرا کر دے. ایک ہزار کا مالک ہے اور دو ہزار کی زکاۃ دی اورنیّت یہ ہے کہ سال تمام تک اگر ایک ہزار اور ہوگئے تو یہ اس کی ہے، ورنہ سال آئندہ میں محسوب ہوگی یہ جائز ہے۔ یہ گمان کرکے کہ پانسو روپے ہیں ، پانسو کی زکاۃ دی پھر معلوم ہوا کہ چار ہی سو تھے تو جو زیادہ دیا ہے، سال آئندہ میں محسوب کر سکتا ہے۔
(بہارشریعت، زکوٰۃ کا بیان، جلد 1 ، حصہ 5 ، مکتبۃالمدینہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
26 رمضان المبارک 1445ء 06 اپریل 2024ھ