زمین،بھینسوں اور قربانی پر بیچنےجانے والے بیل کی زکوۃ
سوال:مفتی صاحب، کسی کے پاس زمین ہے جس میں وہ فصل بوتا ہے اور اسکے پاس بھینسیں بھی ہیں جس کا وہ دودھ بیچتا ہے اور اسکے پاس بیل بھی ہے جسے وہ قربانی کے دنوں میں بیچتا ہے وہ عشر اور زکوات کیسے ادا کرے گا ؟
(سائل:عبد العزیز انصاری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
♦ مذکورہ زمین کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں البتہ اس کی فصل اگر بارش یا نہری پانی سے سیراب کی گئی ہے تو ہر فصل کی پیداوار کا دسواں حصہ جبکہ ٹیوب ویل وغیرہ کے ذریعے سیراب کی گئی فصل سے بیسواں حصہ نکالنا لازمی ہے، نیز فصل کی پیداوار پر زکوٰۃ لازم ہونے میں سال کا گزرنا یا صاحب نصاب ہونا لازمی نہیں، یونہی فصل کے تھوڑا زیادہ ہونے کا بھی اعتبار نہیں۔
♦ دودھ حاصل کرنے کے لیے جو بھینسیں رکھیں ہیں وہ اگر سال کا اکثر حصہ جنگل وغیرہ میں چر کر گزارا کرتی ہیں تو انکی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہیں البتہ جب انکی تعداد تیس ہو جائے گی تب ان پر اسطرح زکوٰۃ لازم ہو گی کہ تیس بھینسوں پر ایک سال کا ایک بچھڑا، پھر جب تعداد چالیس ہو گی تو اب ان چالیس بھینسوں پر دو سال کا بچھڑا بطور زکوۃ دینا لازم ہو گا۔
♦ جوبھینسیں سال کا اکثر حصہ جنگل میں نہیں چیرتیں بلکہ مالک خود انکے چارے کا بندوبست کرتا ہے جیسے عموماً شہروں میں باڑے والوں کے جانور ہوتے ہیں تو ان بھینسوں پر زکوۃ لازم نہیں ،یونہی تیس سے کم بھینسوں پر بھی زکوۃ لازم نہیں ۔البتہ ان سے حاصل شدہ دودھ کو بیچ کر جو قیمت حاصل کی جائے گی اس پر زکوٰۃ لازم ہو گی جبکہ یہ رقم تنہا یا دیگر مالِ زکوۃ (روپیہ پیسہ سونا چاندی) سے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے اور زکوۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔
♦ جو بیل اسلیے خریدا کہ قربانی پر بیچوں گا یا دوسرا کوئی بھی جانور جیسے بھینس وغيرہ اسلیے خریدی کہ اس کو بیچوں گا تو یہ مال تجارت ہے اور اسکی مالیت پر زکوٰۃ لازم ہو گی جبکہ دیگر شرائط کے ساتھ اسکی مالیت تنہا یا دیگر مالِ زکوۃ سے مل کر نصاب کے برابر ہو جائے۔
علامہ ابراہیم حکبی فرماتے ہیں : وليس في أقل من ثلاثين من البقر زكاة فإذا كانت ثلاثين سائمة ففيها تبيع، وهو ما طعن في الثانية أو تبيعة إلى أربعين ففيها مسن وهو ما طعن في الثالثة أو مسنة… والجواميس كالبقر. [ملتقى الأبحر، كتاب الزكاة ، باب زكاة السوائم]
مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے: فإن أسامها للحمل والركوب فلا زكاة فيها وإن أسامها للبيع والتجارة ففيها زكاة التجارة.
[مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب الزكاة ، باب زكاة السوائم، ١٩٧/١]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
21 رمضان المبارک 1445ء 01 اپریل 2024ھ