مسبوق کا ساتھ والے کی نماز سے اپنی رکعات کا اندازہ لگانا
سوال:مفتی صاحب، اگر یہ یاد نہ ہو کہ میں امام کے ساتھ کس رکعت میں ملا تھا، البتہ یہ یا د ہے کہ میں اور میرے ساتھ والا ایک ہی رکعت میں آئے تھے تو کیا بندہ ساتھ والے کو دیکھ کر اندازے سے نماز پوری کر سکتا ہے؟
(سائل:زبیر پیرزادہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
بقیہ نماز پڑھنے والے شخص کو اگر تعداد رکعات میں شک ہو جائے،اور وہ اپنے ساتھ والے نمازی کی نماز سے اپنی رکعات کا اندازہ کر کے اپنی نماز مکمل کرے تو ایسا کرنا جائز ہے اور نماز بھی ادا ہو جائے گی جبکہ اس عمل میں ساتھ والے نمازی کی اقتداء کا قصد نہ ہو۔
فتح القدیر اور البحرالرائق میں ہے : لو نسي أحد المسبوقين المتساويين كمية ما عليه فقضى ملاحظا للآخر بلا اقتداء به صح. یعنی ایک ساتھ کے دو مسبوق مقتدیوں میں سے ایک اپنی بقیہ رکعات کی تعداد بھول گیا اور اُس نے بغیر اقتداء کی نیت کے دوسرے کو دیکھ کر اپنی نماز پوری کی تو یہ صحیح ہے۔ [ فتح القدير للكمال ابن الهمام، كتاب الصلاة ، باب الإمامة ، 1/390]
[البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق،کتاب الصلاۃ، ٤٠١/١]
فتاوی شامی میں ہے: حاصله أنه لو اقتدى اثنان معا بإمام قد صلى بعض صلاته فلما قاما إلى القضاء نسي أحدهما عدد ما سبق به فقضى ملاحظا للآخر بلا اقتداء به صح كما في الخانية والفتح. [الدر المختار وحاشية ابن عابدين،كتاب الصلاة ،باب الإمامة]
بہار شریعت میں ہے : دو مسبوقوں نے ایک ہی رکعت میں امام کی اقتدا کی، پھر جب اپنی پڑھنے لگے تو ایک کو اپنی رکعتیں یاد نہ رہیں ، دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جتنی اس نے پڑھی، اس نے بھی پڑھی، اگر اس کی اقتدا کی نیت نہ کی ہوگئی ۔
(بہار شریعت ، جماعت کا بیان، جلد 1 ، حصہ 3 مکتبۃالمدینہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
21 رمضان المبارک 1445ء 01 اپریل 2024ھ