قربانی کے بدلے کسی غریب کو پیسے دینا

قربانی کے بدلے کسی غریب کو پیسے دینا

سوال:مفتی صاحب ،بعض لوگ کہتے ہیں ،قربانی کی جگہ اتنے پیسے کسی غریب کو دے دیں،کیا یوں قربانی ہو جائے گی؟

(سائل :شکیل احمد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

غریب کی مدد کرنا اچھی بات ہے ، پورا سال ہر وقت ہی کرنی چاہیے لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس بہانے سے بندہ فرائض و واجبات کو ہی چھوڑ دے اور کہے کہ جتنا وقت نماز پڑھنے میں لگے گا اتنے وقت میں کسی غریب محتاج کی خدمت کر لو وغیرہ وغيرہ یوں تو آہستہ آہستہ تمام فرائض ہی رخصت ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اسطرح کے جملے کہنے والے دین بیزار ذہنی، قلبی و فکری غریبوں کی غربت بڑھتی ہی جائے گی، دہریہ لوگ جو خدا اور مذہب کے منکر ہیں انسانیت کی خدمت کے بہانے اس قسم کے جُملوں کو عام کرتے ہیں تاکہ لوگ مذہب سے دور ہوں، لہذا ان لوگوں کی بات پر توجہ نہ دی جائے۔

جس شخص پر قربانی واجب ہے اسے قربانی کے ایام میں قربانی کرنا ہی لازم ہے، کسی غریب کو پیسے دینے سے یہ واجب ادا نہیں ہو گا، اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ شخص گنہگار مستحق نار ہو گا،نیز قربانی کرنے میں واجب کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ غریبوں میں گوشت تقسیم کرنا بھی غریبوں کی خدمت کی ہی ایک صورت ہے، اسکے علاوہ گاؤں دیہات میں رہنے والے لاکھوں غریب لوگ جانور تیار کر کے اس موقع پر اچھی قیمتیں وصول کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں، اور بلا مبالغہ لاکھوں غریب قصاب قربانی کی برکت سے حلال رزق کماتے ہیں،لاتعداد غریب چارہ وغیرہ بیچ کر اپنی مالی حالت بہتر کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ، تو بلاشبہ قربانی کرنے میں بھی لاکھوں کروڑوں غریبوں کا فائدہ ہی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما عمل ابن آدم يوم النحر عملا أحب إلى الله عز وجل، من هراقة دم . یعنی اللہ کے ہاں قربانی والے دن قربانی سے بڑھ کر ابن آدم کا اور کوئی عمل محبوب نہیں۔ [ سنن ابن ماجه، كتاب الأضاحي، باب ثواب الأضحية ،١٠٤٥/٢]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

21 ذیقعدۃ الحرام 1445ء 31 مئی 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں