مسجد شہید کر کے نیچے مارکیٹ اوپر مسجد بنانا
سوال:مفتی صاحب، بازار میں مسجد ہے، اس کو شہید کر کے نیچے مارکیٹ اوپر مسجد بنانا جیسا کہ آجکل مساجد کی آمدنی بڑھانے کے لیے متعدد جگہوں پر ایسا دیکھا گیا ہے،کیا یوں کر سکتے ہیں؟
(سائل :جاوید عنصر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
جو جگہ ایک دفعہ مسجد ہو جائے اب آمدنی کی خاطر وہاں دُکانیں ،مارکیٹ وغیرہ بنانا اور پھر اُوپر مسجد بنانا جائز و حرام ہے، اگرچہ مارکیٹ کا کرایہ مسجد کو ہی دیا جائے کیونکہ اس میں مسجد کی حُرمت ختم کرنا اور وقف کو تبدیل کرنا ہے جوجائز نہیں،لہذا ایسا کرنے والوں پر سچی توبہ اور اپنے خرچے سےمسجد کو سابقہ حالت پر بحال کرنا لاز م ہے۔
قرآن پاک میں ہے : وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ . ترجمہ : اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگاجو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔[البقرۃ، آیت : 114]
علامہ ابن نجیم مصری فرماتے ہیں : وفي المجتبى لا يجوز لقيم المسجد أن يبني حوانيت في حد المسجد أو فنائه. یعنی مسجد کے متولی کے لیے جائز نہیں کہ وہ مسجد کی حد یا فناء میں دُکانیں بنائے۔ [البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق،كتاب الوقف ،٢٦٩/٥]
المحیط البرہانی میں ہے : قيم المسجد إذا أراد أن يبني حوانيت في المسجد وفي فنائه لا يجوز، أما المسجد: فلأنه إذا جعل مسكنا يسقط حرمة المسجد، أما الفناء: فلأنه يتبع المسجد. [المحيط البرهاني في الفقه النعماني، كتاب الوقف ،الفصل الحادي والعشرون فى المساجد]
فتاوی ہندیہ میں ہے : إذا أراد إنسان أن يتخذ تحت المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له ذلك، كذا في الذخيرة.
[مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية،کتاب الوقف، ٤٥٥/٢]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
30 شوال الکرم 1445ء 09 مئی 2024ھ