کیا فرشتے تلاوت کرتے ہیں ؟

کیا فرشتے تلاوت کرتے ہیں ؟

سوال:مفتی صاحب ، کیا یہ بات درست ہے کہ فرشتوں کو قرآن پڑھنا نہیں آتا ،اسی لیے جب ہم قرآن پاک پڑھتے ہیں تو وو ہمارا چہرہ دیکھتے ہیں؟

(سائل :بنت شافعی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

یہ بات درست ہے کہ اللہ پاک نے عام فرشتوں کو قرآن پاک کی تلاوت پر قدرت نہیں دی، ہاں بعض خاص فرشتوں کو یہ قدرت عطا فرمائی ہے جیسے وحی لے کر حاضر ہونے والے فرشتے حضرت جبریل علیہ السلام ،کہ وہ ہر سال رمضان میں حضور علیہ السلام کے ساتھ قرآن پاک کا دور فرمایا کرتے۔

صحیح بخاری میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے : أسر إلي النبي صلى الله عليه وسلم: أن جبريل كان يعارضني بالقرآن كل سنة، وإنه عارضني العام مرتين، ولا أراه إلا حضر أجلي . [البخاري، صحيح البخاري، كتاب فضائل القرآن، ١٨٦/٦]

علامہ عبدالرؤف مناوی فیض القدیر میں ایک حدیث پاکی کی شرح میں فرماتے ہیں :(فإن أحدكم إذا قرأ في صلاته وضع ملك فاه على فيه) يحتمل أن المراد به كاتب الحسنات ويحتمل غيره (فلا يخرج من فيه) أي القارىء (شيء) من القرآن (إلا دخل فم الملك) لأن الملائكة لم يعطوا فضيلة التلاوة كما في خبر آخر وأنهم حريصون على استماع القرآن من البشر.

[المناوي، فيض القدير، حرف الهمزه ، ٤١٢/١]

احکام شریعت میں ہے : فرشتوں کو قرآن عظیم کا بہت شوق ہے، اور عام ملائکہ کو تلاوت کی قدرت نہ دی گئی،جب مسلمان قرآن شریف پڑھتا ہے فرشتہ اس کے منہ پر منہ رکھ کر تلاوت کی لذت لیتا ہے۔ ( احکام شریعت،ص 134-135 ،ممتاز اکیڈمی لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

25 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 02 جولائی 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں