نماز جنازہ سے قبل یا بعد میت کا چہرہ دیکھنا
سوال:مفتی صاحب ، نمازجنازہ سےقبل یابعدمیت کاچہرہ دیکھنے کا کیا حکم ہے، اوراس کی کیا فضیلت ہے؟
(سائل :سلیم رضا قادری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
نماز جنازہ سے قبل اور بعد دونوں وقت میت کا چہرہ دیکھنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ اس چہرہ دیکھنے یا دکھانے کے سبب تدفین میں تاخیر کرنا درست نہیں کیونکہ شریعت مطہرہ میں تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، اور میت کا چہرہ دیکھنے و دکھانے کی فضیلت کہیں پڑھی نہیں ہاں حضور علیہ السلام کے فعل مبارک سے میت کا چہرہ دیکھنا ثابت ہے۔
سنن ابن ماجہ شریف میں ہے: عن أنس بن مالك، قال: لما قبض إبراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم، قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: لا تدرجوه في أكفانه حتى أنظر إليه، فأتاه، فانكب عليه، وبكى. یعنی جب حضور علیہ السلام کے بیٹے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ انہیں کفن میں داخل نہ کرنا حتی کہ میں انہیں دیکھ لوں ،پھر جب آپ علیہ السلام تشریف لائے تو ان پر گر پڑے اور روئے۔ [ابن ماجه،سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز ، 1/473]
فتاوی ہندیہ میں ہے : ولا بأس بأن يرفع ستر الميت ليرى وجهه وإنما يكره ذلك بعد الدفن كذا في القنية.
[الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية ، الباب السادس عشر، ٣٥١/٥]
فتاوی فیض الرسول میں ہے : جس طرح نماز جنازہ سے پہلے میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے ، ایسے نماز جنازہ کے بعد بھی دیکھنا جائز ہے۔
(فتاوی فیض الرسول ، جلد 3 ، صفحہ 415 ، شبیر برادرز )
نماز جنازہ سے قبل اور بعد دونوں وقت میت کا چہرہ دیکھنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ اس چہرہ دیکھنے یا دکھانے کے سبب تدفین میں تاخیر کرنا درست نہیں کیونکہ شریعت مطہرہ میں تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، اور میت کا چہرہ دیکھنے و دکھانے کی فضیلت کہیں پڑھی نہیں ہاں حضور علیہ السلام کے فعل مبارک سے میت کا چہرہ دیکھنا ثابت ہے۔
سنن ابن ماجہ شریف میں ہے: عن أنس بن مالك، قال: لما قبض إبراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم، قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: لا تدرجوه في أكفانه حتى أنظر إليه، فأتاه، فانكب عليه، وبكى. یعنی جب حضور علیہ السلام کے بیٹے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ انہیں کفن میں داخل نہ کرنا حتی کہ میں انہیں دیکھ لوں ،پھر جب آپ علیہ السلام تشریف لائے تو ان پر گر پڑے اور روئے۔ [ابن ماجه،سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز ، 1/473]
فتاوی ہندیہ میں ہے : ولا بأس بأن يرفع ستر الميت ليرى وجهه وإنما يكره ذلك بعد الدفن كذا في القنية.
[الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية ، الباب السادس عشر، ٣٥١/٥]
فتاوی فیض الرسول میں ہے : جس طرح نماز جنازہ سے پہلے میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے ، ایسے نماز جنازہ کے بعد بھی دیکھنا جائز ہے۔
(فتاوی فیض الرسول ، جلد 3 ، صفحہ 415 ، شبیر برادرز )
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
23 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 30 جون 2024ھ