کپڑوں میں ریشمی دھاگے سے سلائی کرنا

کپڑوں میں ریشمی دھاگے سے سلائی کرنا

سوال:مفتی صاحب ، کیا مردوں کے لیے کپڑوں میں ریشمی دھاگوں کی سلائی کروانا جائز ہے؟

(سائل :محمد اسلام)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

مردوں کے لیے ریشم کے دھاگے سے کپڑوں کی سلائی کرانا جائز ہے، بشرطیکہ کسی بھی جگہ چار انگل سے زائد سلائی نہ ہو، اور عموماً کپڑوں کی سلائی چار انگل سے کافی کم ہوتی ہے،لہذا جائز ہے۔

علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمۃ سے فرماتے ہیں : حرم للرجل لا للمرأة لبس الحرير إلا قدر أربع أصابع) أن اليسير معفو عنه وهو مقدار أربع أصابع لما روى أحمد ومسلم والبخاري ، نهي عن لبس الحرير إلا موضع أصبعين أو ثلاثة أو أربع ،الحديث.

[البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، ٢١٥/٨]

بہار شریعت میں ہے : مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار انگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار انگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں….ریشم کے کپڑے کا پیوند کسی کپڑے میں لگایا اگر یہ پیوند چار انگل تک کا ہو جائز ہے اور زیادہ ہو تو ناجائز….. متفرق جگہوں پر ریشم کا کام ہے، تواس کو جمع نہیں کیاجائے گا یعنی اگرایک جگہ چار انگل سے زیادہ نہیں ہے مگر جمع کریں تو زیادہ ہوجائے گا یہ ناجائز نہیں ، لہٰذا کپڑے کی بناوٹ میں جگہ جگہ ریشم کی دھاریاں ہوں تو جائز ہے، جبکہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ چوڑی کوئی دھاری نہ ہو۔ یہی حکم نقش و نگار کا ہے کہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ نہ ہونا چاہیے۔

(بہارشریعت، لباس کا بیان، جلد 3 ، حصہ 16 ،مکتبۃالمدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

21 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 28 جون 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں