مسافر کی پندرہ دن ٹھہرنے کی پکی نیت نہ ہو،فقط کام پورا ہونے کا انتظار ہو تو مسافر یا مقیم؟
سوال:مفتی صاحب ، میں سفر پر لاہور اپنے والد صاحب کے ساتھ ہسپتال آیا ہوں ، اب پتا نہیں ہے کہ کتنے دن ہسپتال رہنا ہے۔ کیا اب نماز سفر کی پڑھنی ہو گی؟
(سائل :غلام مصطفی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
آپ والد کے ساتھ جہاں ہسپتال گئے، وہ ہسپتال اگر مدت مسافت یعنی بانوے کلو میٹر کی مسافت پر ہے تو اس صورت میں جب تک آپ وہاں پندرہ دن ٹھہرنے کی پکی و حتمی نیت نہیں کرتے مسافر ہی ہوں گے، اور یہ نیت کہ جب بھی ہسپتال والے فارغ کریں گے، چاہے دس دن لگیں چاہے مہینہ لگے، چلے جائیں گے یہ پکی و حتمی نیت نہیں لہذا اس صورت میں نماز قصر ہی پڑھنی ہے۔
البحرالرائق و فتاوی ہندیہ میں ہے : قال أصحابنا في تاجر دخل مدينة لحاجة، ونوى أن يقيم خمسة عشر يوما لقضاء تلك الحاجة لا يصير مقيما؛ لأنه متردد بين أن يقضي حاجته فيرجع وبين أن لا يقضي فيقيم فلا تكون نيته مستقرة. یعنی ہمارے اصحاب رحمہم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ وہ تاجرجوکسی شہرمیں کسی ضرورت کے لئے گیا اس نے حصول حاجت کے لئے پندرہ دن اقامت کی نیت کرلی تو وہ مقیم نہ ہوگا کیونکہ وہ متردد ہے اس بارے میں کہ اگر ابھی کام ہوجاتا ہے تو لوٹ جائے اور اگر نہیں ہوگا تو اقامت کرے تواس کی پختہ نیت نہ ہوئی۔ [ابن نجيم، البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر، ١٤٤/٢]
فتاوی رضویہ میں ہے : نیت سچے عزم قلب کا نام ہے، پندرہ دن ٹھہر نے کا ارادہ کرلے ، اور جانتا ہے کہ اس سے پہلے چلے جانا ہے تو یہ نیت نہ ہوئی محض تخیل ہوا۔(فتاوی رضویہ، جلد 8 ، صفحہ 261، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
18 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 25 جون 2024ھ