دین کے دس فیصد پر عمل کرنا ،حدیث پاک کی وضاحت
سوال:مفتی صاحب ، کيا ايسی کوئی حديث ہے کہ آخر زمانہ ميں جس نے دس فيصد بھی دين پر عمل کر ليا وہ نجات پا جائے گا، اگر ہے تو وضاحت بھی فرما ديں؟
(سائل :راجہ عابد حسین)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
♦ ترمذی شریف میں اس مضمون کی حدیث شریف موجود ہے ، اور اس حدیث پاک کی شرح میں مستند ترین شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں دسویں حصے سے مراد فرائض و واجبات نہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک نے مکمل ہی ادا کرنے ہیں ، بلکہ یہاں احکامِ تبلیغیہ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مراد ہیں یا پھر سنن و نوافل مراد ہیں، اس اعتبار سے حدیث کا مطلب بالکل واضح ہے کہ آخری زمانے میں رکاوٹیں بہت زیادہ ہوں گی اور اس وقت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر دس فیصد عمل پیرا ہونا بھی آج کے لحاظ سے بہت بڑی بات ہو گی۔
♦ یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں ہر شخص پر لازم و واجب شدہ ذاتی احکام سے قطع نظر مجموعی احکام مراد ہوں کہ ان احکام کے دس فیصد کا اجراء بھی نجات کے لیے کافی ہو جیسا کہ آجکل طرح طرح کی رکاوٹوں کے باعث مکمل سو فیصد اسلامی نظام، جہاد اور قضاء کے احکامات کا نفاذ تقریباً نامکمن ہو چکا ہے مثلاً چور کے ہاتھ کاٹنا، زانی کو سنگسار کرنا اور قصاص و دیت وغیرہ کے دیگر احکام۔
ترمذی شریف میں ہے : إنكم في زمان من ترك منكم عشر ما أمر به هلك ثم يأتي زمان من عمل منهم بعشر ما أمر به نجا.
[الترمذي، محمد بن عيسى، سنن الترمذي ت شاكر، ابواب الفتن،٥٣٠/٤]
مرقاۃ شریف میں ہے : أي: من الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، إذ لا يجوز صرف هذا القول إلى عموم المأمورات لأنه عرف أن مسلما لا يعذر فيما يهمل من الفرض الذي تعلق بخاصة نفسه . [مرقاة المفاتيح، کتاب الإیمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ،الفصل الثانی ،٢٦٤/١]
شیخ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : قالوا: ورد هذا في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، وإلا فالأوامر لا يسع تركها لأحد، ويحتمل أن يكون بما أمر به السنن والمندوبات سوى الفرائض والواجبات . [لمعات التنقيح،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثانی]
مرآۃ المناجیح میں ہے :یہاں احکام سے مرادتبلیغ اور سنن ونوافل وغیرہ ہیں نہ کہ فرائض و واجبات،یعنی آج چونکہ تبلیغ اور ساری نیکیوں کے لیئے کوئی رکاوٹ نہیں اب کچھ بھی چھوڑنا اپنا قصور ہے۔آخر زمانہ میں رکاوٹیں بہت ہوں گی اس وقت آج کے لحاظ سے دسواں حصہ پر عمل کرنا بڑی بہادری ہوگی۔لہذا حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ اب ایک ہی نماز اور ہزاروں حصہ زکوۃ اور رمضان کے تین روزہ کافی ہیں یا یہ مناسبت مجموعی احکام کے لحاظ سے ہے۔چنانچہ آج اسلامی جہاد قضاء کے احکام پر پورا عمل ناممکن ہے ہم چور کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے،زانی کو سنگسار نہیں کرسکتے وغیرہ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، ایمان کا بیان، جلد:1 , حدیث نمبر:179)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
16 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 23 جون 2024ھ