ایک بکرا،اور کچھ پیسے دے کر دوسرا بکرا خریدنا

ایک بکرا،اور کچھ پیسے دے کر دوسرا بکرا خریدنا

سوال:مفتی صاحب ، ایک شخص اپنا بکرا دوسرے کو دے کر سات میں کچھ پیسے بھی دے کر اُس سے اُسکا بکرا خرید لیتا ہے کیا ایسا کرنا درست ہے اور قربانی ہو جائے گی ؟

(سائل :امتیاز خان)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

ایک بکرا اور ساتھ میں کچھ پیسے دے کر دوسرا بکرا خریدنا جائز ہے اگرچہ یہ معاملہ اُدھار ہو کیونکہ یہاں پر دونوں طرف نہ جنس ایک ہے اور نہ ہی قدر( یعنی ماپ تول)اور اس بکرے کی قربانی بھی ہو جائے گی، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں۔

فتاوی ہندیہ اوردیگر متعدد کُتب فقہ میں ہے : وإن وجد القدر والجنس حرم الفضل والنساء وإن وجد أحدهما وعدم الآخر حل الفضل وحرم النساء وإن عدما حل الفضل والنساء كذا في الكافي. یعنی اگر قدراور جنس دونوں ہوں تو کمی بیشی و ادھار دونوں حرام ،اور اگر ایک ہو دوسرا نہ ہو تو کمی بیشی جائز لیکن ادھار حرام ،اور اگر دونوں نہ ہوں تو کمی بیشی و ادھار دونوں حلال ہیں ۔

[الفتاوى الهندية، كتاب البيوع ، الباب التاسع ، الفصل السادس ، ١١٧/٣]

بہار شریعت میں ہے : قدروجنس دونوں موجود ہوں توکمی بیشی بھی حرام ہے (اس کو رباالفضل کہتے ہیں ) اور ایک طرف نقد ہو دوسری طرف ادھار یہ بھی حرام (اس کو ربا النسیہ کہتے ہیں )….. اور دونوں میں سے ایک ہو ایک نہ ہو تو کمی بیشی جائز ہے اور اُودھار حرام ….. اور دونوں نہ ہوں تو کمی بیشی بھی جائز اور اودھار بھی جائز۔

(بہار شریعت، قرض کا بیان، جلد2، حصہ11، مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

08 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 15 جون 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں