مرحوم کی جائیداد پر قربانی کس نے ادا کرنی ہے؟
سوال:مفتی صاحب ، والد کے انتقال کے بعد مالِ تجارت پر قربانی والدہ پر لازم ہو گی یا میرے (بیٹے) پر؟
(سائل :محمد طارق عطاری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
آپ کے والد صاحب کا چھوڑا ہوا مال چاہے مالِ تجارت ہو یا مالِ غیرِ تجارت، آپکی والدہ اور آپکے کے حصے میں جتنا بھی حصہ آیا ہر ایک کی الگ الگ ملکیت کا اعتبار ہو گا، دونوں میں سے جسکا بھی حصہ تنہا یا کسی دوسرے مال سے ملکر نصاب تک پہنچ جائے اور یہ نصاب حاجتِ اصلیہ و قرض سے فارغ ہو تو اس پر قربانی کرنا واجب ہے، کیونکہ مورِث (اصل مالک) کے فوت ہوتے ہی اسکے چھوڑے ہوئے مال پر شرعاً ورثاء کی ملکیت شرعی حصہ کے مطابق ثابت ہو جاتی ہے اگرچہ ابھی تک ورثاء نے باقاعدہ تقسیم نہ کی ہو۔
المحیط البرہانی میں ہے : وشرط وجوبها اليسار عند أصحابنا رحمهم الله، والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم، أو عشرون دينارا، أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومتاعه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها. یعنی ہمارے نزدیک قربانی واجب ہونے کی شرط خوشحال ہونا ہے، اور ظاہر الروایہ میں خوشحال وہ ہے، جسکی ملکیت میں دو سو درہم یا بیس دینار یا انکی مقدار برابر ایسی کوئی چیز ہو جو اُسکے رہنے کے گھر ،گھریلو سامان،سواری ،خادم وغیرہ حاجت کی ایسی چیزیں جن سے وہ مستغنی نہیں کے علاوہ ہو۔ [المحيط البرهاني في الفقه النعماني، كتاب الأضحية، الفصل الاول في وجوب الأضحية ]
فتاوی رضویہ میں ہے : ارث جبری ہے کہ موتِ مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصۂ شرعی کامالک ہوتا ہے ، مانگے خواہ نہ مانگے ، لے یا نہ لے ، دینے کاعرف ہویا نہ ہو ، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کوگزر جائے ، کتنے ہی اشتراک در اشتراک کی نوبت آئے ، اصلاً کوئی بات میراثِ ثابت کو ساقط نہ کرے گی ، نہ کوئی عرف فرائض اللہ کو تغیر کر سکتا ہے ، یہاں تک کہ نہ مانگنا در کنار ، اگر وارث صراحۃً کہدے کہ میں نے اپنا حصہ چھوڑ دیا ، جب بھی اس کی ملک زائل نہ ہو گی۔ (فتاوٰی رضویہ ، ج26 ، ص113 ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
03 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 10 جون 2024ھ