حالت احرام میں تھوڑی دیر کے لیے ماسک پہننا
سوال:مفتی صاحب ، حالت احرام میں 15/20 منٹ کیلئے منہ پر ماسک لگانے کا کیا کفارہ ہے ؟
(سائل :ممبر فقہی مسائل گروپ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
حالتِ احرام میں محرم پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنا چہرہ کھلا رکھے، کسی بھی چیز مثلاً کپڑے، رومال وغیرہ سے چھپانے کی اجازت نہیں اس حالت میں ماسک پہننا جائز نہیں اگر بلاعذر پہنا تو پہننے والا گنہگار ہو گا، نیز اس صورت میں کفارے کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اگر ماسک اتنا بڑا ہے کہ اس نے چہرے کے چوتھائی حصے کو ڈھانپ لیا تو پندرہ بیز منٹ تک پہننے کی صورت میں ایک صدقہ فطر لازم ہو گا اور اگر ماسک کا سائز چھوٹا ہے کہ چہرے کا چوتھائی نہیں چھپاتا تو اب کوئی کفارہ نہیں۔
المبسوط میں ہے : وإن غطى المحرم ربع رأسه أو وجهه يوما فعليه دم، وإن كان دون ذلك فعليه صدقة . یعنی اگر محرم نے چوتھائی سر یا چہرہ پورا دن ڈھانپا تو اس پر دم لازم ہے ،اور اگر دن سے کم تو اُس پر صدقہ ہے۔
[السرخسي ،المبسوط للسرخسي،كتاب المناسك ،باب ما يلبسه المحرم ،4/128]
فتاوی ہندیہ میں ہے : ويكره له أن يعصب رأسه أو وجهه بغير علة، وإن فعل ذلك يوما كاملا فعليه الصدقة كذا في شرح الطحاوي.
[الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، الباب الثامن فى الجنايات، الفصل الثانى فى اللبس، ٢٤٢/١]
فتاوی رضویہ میں ہے : مرد سارا سر یا چہارم یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یازیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہرتک یا زیادہ لگا تا ر چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہر تک یا چار سے کم اگر چہ سارا سریا منہ توصدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ،جلد10، صفحہ 758،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
01 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 08 جون 2024ھ