بیٹے کما کر والد صاحب کو دے دیتے ہیں تو قربانی کا حکم

بیٹے کما کر والد صاحب کو دے دیتے ہیں تو قربانی کا حکم

سوال:مفتی صاحب ، ہمارا فیملی جوائنٹ سسٹم ہے، سارے بیٹے پیسے کما کر باپ کو 50،50 ہزار دیتے ہیں، باپ خود بھی کماتا ہے، الگ سے حساب کتاب نہیں کہ پتہ چل سکے کہ بیٹے صاحب نصاب ہیں یا نہیں، اب سوال یہ ہے کہ بیٹے الگ الگ قربانی کریں گے یا صرف والد صاحب ہی قربانی کریں گے؟

(سائل :رضا شیرازی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

اگر واقعی بیٹے اپنے والد صاحب کو ساری کمائی کا مالک کر دیتے ہیں، اور بیٹوں کے پاس قربانی کے ایام میں نصاب کے برابر مال نہیں تو ان پر قربانی کرنا لازم نہیں ، کیونکہ قربانی واجب ہونے کے لیے صاحب نصاب ہونا شرط ہے، البتہ قربانی کی شرائط پائے جانے کی صورت میں والد صاحب پر قربانی م لازم ہو گی۔

یہ یاد رہے کہ اگر بیٹوں نے والد صاحب کو اپنی کمائی کا مالک نہیں بنایا بلکہ فقط وکیل کیا تو پھروالدصاحب کو دیے گئے ان پیسوں پر اور اسکے ساتھ مزید جو بھی رقم یا ضرورت سے زائد سامان بیٹوں کی ملکیت میں ہے اس سب پر قربانی لازم ہو گی جبکہ یہ مال نصاب کے برابر ہو، لہذا اس صورت میں جو جو بیٹا صاحب نصاب ہو گا اُس پر اپنی الگ سے قربانی لازم ہو گی،فقط باپ کی قربانی کافی نہیں۔

المحیط البرہانی میں ہے : وشرط وجوبها اليسار عند أصحابنا رحمهم الله، والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم، أو عشرون دينارا، أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومتاعه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها. یعنی ہمارے نزدیک قربانی واجب ہونے کی شرط خوشحال ہونا ہے، اور ظاہر الروایہ میں خوشحال وہ ہے، جسکی ملکیت میں دو سو درہم یا بیس دینار یا انکی مقدار برابر ایسی کوئی چیز ہو جو اُسکے رہنے کے گھر ،گھریلو سامان،سواری ،خادم وغیرہ حاجت کی ایسی چیزیں جن سے وہ مستغنی نہیں کے علاوہ ہو۔

[المحيط البرهاني في الفقه النعماني، كتاب الأضحية، الفصل الاول في وجوب الأضحية ]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

29 ذیقعدۃ الحرام 1445ء 07 جون 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں