قادیانیوں سے نرم گوشہ رکھنے والوں کے متعلق شرعی حکم

قادیانیوں سے نرم گوشہ رکھنے والوں کے متعلق شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج کل کئی سیاسی لیڈر،سرکاری افسران اور اینکرز وغیرہ قادیانیت کے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہوئے کئی جملے ایسے بول دیتے ہیں جن کے حوالے سے شرعی راہنمائی درکار ہے: جیسے قادیانیوں کو بھائی کہنا،یہ کہنا کہ وہ بھی ہماری ہی طرح کلمہ اور نماز پڑھتے ہیں،قادیانیوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کو ان کاحق کہنا،ان کو اپنی مذہبی کتابیں چھاپنے کی اجازت دینا، قادیانیوں کے خلاف بولنے والے علمائے کرام کو متشدد وغیرہ کہنا۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری نبی ہونا کثیر قرآنی آیات و احادیث سے ثابت ہے ،آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا ،جو آپ کے بعد کسی کے نبی ہونے کا عقیدہ رکھے وہ دائرہ اسلام سے خارج و مرتد ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی جس نے نبی ہونے کا دعوی کیا ، اس کے علاوہ اس نے کئی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخیاں کیں اور مکہ ومدینہ کے چالیس مفتیان کرام نے اس کے متعلق کفر کا فتوی دیا اور فرمایا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔لہذا اب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے متعلق نرم گوشہ رکھنے والوں کی درج ذیل صورتیں ہوں گی:

٭اگر کسی لیڈر،افسر یا اینکر کو پتہ ہی نہیں کہ قادیانی کافر و مرتد ہے اور اس کے نظریات کا بھی علم نہیں اور اس نے اپنی جہالت میں ایسے کلمات کہہ دیے جس میں وہ ان کو مسلمان یا مظلوم کہہ رہا ہے تو کافر و مرتد نہ ہوگا لیکن جیسے ہی کوئی اس کو اس پر تنبیہ کرے تو فورا رجوع لازم ہے اورقادیانیوں کو کافر جاننا ضروری ہے۔

٭اگر قادیانیوں کے متعلق پتہ ہے کہ وہ حضور علیہ السلام کو آخری نبی نہیں مانتے اس کے باوجود ان کو کافر نہیں جانتا تو خود کافر و مرتد ہے۔

٭اگر قادیانیوں کو کافر جانتا ہے لیکن سیاسی طور پر انگریزوں کو خوش کرنے کے لیے یا قادیانیوں سے ذاتی مفاد کے لیے اگر وہ ایسا بیان دے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور مراد اس سے قومی بھائی لے تو سخت گناہ گار ہے اگر اس سے مراد وہ ان کو مسلمان بھائی مراد لے ،یونہی کوئی قادیانیوں کو مسلمانوں کی طرح جانے کے وہ بھی ہماری طرح نماز و کلمہ پڑھنے کے سبب مسلمان ہیں یا قادیانیوں کو مظلوم اور مسلمان علماء و عوام کو متشدد کہے توایسا شخص کافر و مرتد ہے۔

٭جو شخص قادیانیوں کو کافر و مرتد جانتا ہو لیکن شرع و قانون کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان کے لیے دلی ہمدردری رکھے اور ہمدردی کے طور پر قادیانیت کی تبلیغ کی اجازت دے اور ان کو اپنی دینی کتب شائع کرنے کی اجازت دے تو ایسا شخص کفر کا مرتکب ہوگا کہ وہ کفر کی اشاعت پر راضی ہے اور کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہوتا ہے۔قرآن پاک میں تو اشاعت فاحشہ پر گرفت فرمائی گئی ہے اور قادیانیت میں تو ارتداد کی اشاعت ہے۔

قرآن پاک میں ہے

﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ﴾

ترجمہ کنزالایمان:محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔ (سورةالاحزاب،سورة33،آیت40)

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا

”سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي“

ترجمہ:میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ان میں سے ہر ایک نبی ہونے کاگمان کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ (سنن أبي داود،كتاب الفتن والملاحم،باب ذكر الفتن ودلائلها،جلد4،صفحہ 97،حدیث4252،المكتبة العصرية،بيروت)

المواہب اللدنیہ میں ہے

” من ذھب الی ان النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع او الی ان الولی افضل من النبی فھو زندیق “

جو اس طرف جائے کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے ختم نہ ہوگی، یا کسی ولی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ زندیق ہے۔ ( المواہب اللدنیہ، المقصد السادس، النوع الثالث، جلد3،صفحہ183،المکتب الاسلامی،بیروت)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” قادیانی توایسا مرتدہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ من شک فی کفرہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر میں شک کیا ہو کافرہوگیا۔ )

اسے معاذاللہ مسیح موعود کیا مہدی یا مجدد یا ایک ادنی درجہ کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکراس کے کافر ہونے میں ادنی شک کرے وہ خود کافر مرتد ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔“(فتاوی رضویہ،جلد 11،صفحہ515،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

فتاوی رضویہ میں سوال ہوا:

”کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثرھم اللہ تعالیٰ ونصرھم وابدھم وایدھم اس مسئلہ میں کہ سنیوں کے محلہ میں ایک قادیانی آکر بسا، زید سنی نے مردوں عورتوں کو اس کے گھر میں جانے، اس سے خلا ملا، میل جول حصہ بخرہ رکھنے سے منع کیا، ہندہ جس کے بیٹے وغیرہم سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہیں اس نے کہا کہ بڑے نمازئیے پڑھ کے ملا ہوگئے ہم عذاب ہی بھگت لیں گے، اس بیچارے قادیانی کو دق کر رکھا ہے تو اب ہندہ کا کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرماکر اجر پائیے۔ )“

جوابا امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:”ہندہ نماز کی تحقیر کرنے، عذاب الہٰی کو ہلکا ٹھہرانے اور قادیانی کو اس فعل مسلمانان سے مظلوم جاننے اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم وناحق سمجھنے کے سبب اسلام سے خارج ہوگئی اپنے شوہر پر حرام ہوگئی جب تک نئے سرے سے مسلمان ہو کر اپنے ان کلمات سے توبہ نہ کرے۔ واللہ تعالی اعلم۔“(فتاوی رضویہ شریف، جلد14، صفحہ654، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قرآن پاک میں اشاعت فاحشہ کے متعلق ہے” اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ وَ لَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ وَ اَنَّ اللہَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ “

ترجمۂکنزالایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر اللّٰہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللّٰہ تم پر نہایت مہربان مہروالا ہے توتم اس کامزہ چکھتے۔

اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے:” اشاعت سے مراد تشہیر کرنا اور ظاہر کرنا ہے جبکہ فاحشہ سے وہ تمام اَقوال اور اَفعال مراد ہیں جن کی قباحت بہت زیادہ ہے اور یہاں آیت میں اصل مراد زِنا ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اشاعتِ فاحشہ کے اصل معنیٰ میں بہت وسعت ہے چنانچہ اشاعتِ فاحشہ میں جو چیزیں داخل ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں:

(1)…کسی پر لگائے گئے بہتان کی اشاعت کرنا۔

(2)…کسی کے خفیہ عیب پر مطلع ہونے کے بعد اسے پھیلانا۔

(3)…علمائے اہلسنّت سے بتقدیر ِالٰہی کوئی لغزش فاحش واقع ہو تو ا س کی اشاعت کرنا۔

(4) …حرام کاموں کی ترغیب دینا۔

(5)… ایسی کتابیں لکھنا، شائع کرنا اور تقسیم کرنا جن میں موجود کلام سے لوگ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہوں۔

(6) …ایسی کتابیں، اخبارات، ناول، رسائل اورڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا جن سے شہوانی جذبات متحرک ہوں۔

(7)…فحش تصاویر اور وڈیوز بنانا، بیچنا اور انہیں دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا۔

(8)…ایسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنانا اور بنوا کر لگانا، لگوانا جن میں جاذِبیت اور کشش پیدا کرنے کے لئے جنسی عُریانِیَّت کا سہارا لیا گیا ہو۔

(9)… حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا،ان کی تشہیر کرنا اور انہیں دیکھنے کی ترغیب دینا۔

(10) فیشن شو کے نام پر عورت اور حیا سے عاری لباسوں کی نمائش کرکے بے حیائی پھیلانا۔

(11)زنا کاری کے اڈّے چلانا وغیرہ۔

ان تمام کاموں میں مبتلا حضرات کو چاہئے کہ خدارا! اپنے طرزِ عمل پر غور فرمائیں بلکہ بطورِ خاص ان حضرات کو زیادہ غورکرناچاہئے جو فحاشی وعریانی اور اسلامی روایات سے جدا کلچر کو عام کر کے مسلمانوں کے اخلاق اور کردار میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور بے حیائی، فحاشی و عریانی کے خلاف اسلام نے نفرت کی جو دیوار قائم کی ہے اسے گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے“(صراط الجنان،جلد6،صفحہ596،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

صحیح مسلم،جامع ترمذی،سنن ابن ماجہ،سنن دارمی،مسنداحمد،مسندابی یعلی،صحیح ابن حبان اورالمعجم الأوسط میں ہے:(واللفظ للاول ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:

”ومن دعا الى ضلالة كان عليه من الاثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا“

ترجمہ:جو کسی کو امرِضلالت کی طرف بلائے ؛جتنے اس کے بلانے پرچلیں ، ان سب کے برابر اس پرگناہ ہو گا اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہوگی ۔(الصحیح لمسلم، کتاب العلم ،جلد4،صفحہ2060، دار احياء التراث العربی ، بيروت)

فقہ کی کثیر کتب میں ہے” الرضا بالکفر کفر“

ترجمہ: کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق،جلد5،صفحہ124،دار الكتاب الإسلامی)

اعتراض: اگر کوئی یہ اعتراض کرے پاکستان اور اس کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں کفار رہ رہے ہیں تو جس طرح ان کفار کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی شرعا و قانونا اجازت ہے اور وہ اپنے مذہب کی کتب بھی چھاپتے ہیں تو قادیانیوں کو اس کی اجازت کیوں نہیں؟کیا وہ اقلیت میں سے نہیں ہیں؟

جواب: کافر اور مرتد میں فرق ہوتا ہے۔ کافر جو مسلمانوں کے ملک میں رہتے ہیں اور اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو ان پر زبردستی نہیں ،یہی قرآن کی آیت لااکراہ فی الدین” دین میں جبر نہیں “کا مطلب ہے کہ ہم کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بناتے ۔لیکن قادیانی مرتد ہیں اور مرتد کا حکم یہ ہوتا ہے کہ اس پر حد جاری ہوتی ہے اور حاکم اسلام پر لازم ہے کہ وہ اسے سزا دے تاکہ اس کے فتنے سے مسلمان محفوظ رہیں۔ اب بجائے مرتد کو قتل کرنے کے اس کو تحفط فراہم کیا جائے اور اسے اپنے مذہب کی کتابیں چھاپنے کی اجازت دینا تاکہ وہ عام مسلمانوں کا ایمان برباد کریں یہ کسی صورت جائز نہیں۔

صحیح بخاری ،سنن ابوداؤد،سنن ابن ماجہ ،مسند ابوداؤدطیالسی ،مسند شافعی ،مسند احمد،مسند بزاروغیرہ میں حضرت ابن عباس سے ہے کہ حضورصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے(والنظم للاول)

’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘

ترجمہ:جو شخص اپنے دین کو بدل دے(یعنی مسلمان ہوکر کافر ہوجائے) اُسے قتل کر ڈالو۔ (صحیح بخاری ،کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالہم،باب حکم المرتد والمرتدۃ واستتابتہم ،جلد9،صفحہ 15،دارطوق النجاۃ)

فتای ہندیہ میں ہے

’’إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعیاذ باللہ عرض علیہ الإسلام، فإن کانت لہ شبہۃ أبداہا کشفت إلا أن العرض علی ما قالوا غیر واجب بل مستحب کذا فی فتح القدیر ویحبس ثلاثۃ أیام فإن أسلم وإلا قتل ہذا إذا استمہل، فأما إذا لم یستمہل قتل من ساعتہ‘‘(فتاوی ہندیہ ،کتاب السیر ،الباب التاسع ،جلد2،صفحہ253،دارالفکر ،بیروت)

بہارشریعت میں ہے:

” جو شخص معاذاﷲ مرتد ہو گیا تو مستحب ہے کہ حاکم اسلام اس پر اسلام پیش کرے اور اگر وہ کچھ شبہہ بیان کرے تو اس کا جواب دے اور اگر مہلت مانگے تو تین دن قید میں رکھے اور ہر روز اسلام کی تلقین کرے۔یوہیں اگر اس نے مہلت نہ مانگی مگر امید ہے کہ اسلام قبول کرلے گا جب بھی تین دن قید میں رکھا جائے پھر اگر مسلمان ہوجائے فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے بغیر اسلام پیش کیے اسے قتل کر ڈالنا مکر وہ ہے۔ مرتد کو قید کرنا اور اسلام نہ قبول کرنے پر قتل کر ڈالنا بادشاہ اسلام کا کام ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ ایساشخص اگر زندہ رہا اور اس سے تعرض نہ کیا گیا تو ملک میں طرح طرح کے فساد پیدا ہونگے اور فتنہ کا سلسلہ روز بروز ترقی پذیر ہوگا جس کی وجہ سے امن عامہ میں خلل پڑیگا لہٰذا ایسے شخص کو ختم کر دینا ہی مقتضائے حکمت تھا۔“(بہارشریعت،حصہ9،صفحہ458،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

علامہ شامی علیہ الرحمہ مرتد کی سزا قتل ہونے کی شرعی حد قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فقہاء نے حد کی جو تعریف کی ہے وہ اس پر صادق آتی ہے کیونکہ اصطلاح شرع میں حد اس سزا کو کہتے ہیں جو شریعت کی جانب سے حق اللہ کیلئے مقرر ہو، اور مرتدبھی اگراسلام قبول نہ کرے تو اس کو بھی حق اللہ کیلئے قتل کرنا متعین ہے یہی وجہ ہے کہ کافر اصلی کی طرح اس کے بارے میں یہ اختیار نہیں ہوتا کہ اس کو اسلام لانے پر مجبور نہ کیا جائے اور غلام بنا لیا جائے یا جزیہ لے کر چھوڑ دیا جائے لہٰذایہ قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے حق کیلئے خاص جرم (ارتداد)پر شریعت کی طرف سے مقرر کردہ خاص سزا ہے اوریہی حد کی تعریف ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں

’’لاشک ان قتلہ اذا لم یتب لیس کقتل الکافر الاصلی الحربی حیث یتخیر فیہ الامام بین القتل والاسترقاق ووضع الجزیۃ علیہ حتی یصیر لہ مالنا ولا یجبر علی الاسلام والمرتد بخلاف ذلک فانہ یجبر علی الاسلام ویقتل ان ابی وکان ذکرا بالغا ولا یؤمن ولا یسترق ولا توضع علیہ الجزیۃ فعلم ان العلۃ فی ھذا الحکم لیس ھو مطلق الکفر بل خصوص الردۃ ممن کان مسلما فتکون الردۃ کفرا خاصا یوجب القتل للرجل علی وجہ لا یتخیر فیہ ان لم یسلم ویکون القتل عقوبۃ خاصۃ واجبۃ للہ تعالٰی مرتبۃ علی خصوص الردۃ کما رتب الرجم علی زنا المحصن وبھذا یظھر لک ان قتل المرتد حد‘‘ (رسائل ابن عابدین ،حصہ 1،صفحہ318،مکتبہ محمودیہ ،کوئٹہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری

16شعبان المعظم 1445ھ27فروری 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں