نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے فطرانہ کس پرواجب ہے
سوال:عورت کانکاح ہوچکارخصتی نہیں ہوئی توفطرانہ والدین کے ذمہ ہے یاشوہرکے؟
User ID: Raza Rehman Khattak
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مرد کی طرح اگرعورت بھی خودصاحب نصاب ہویعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کاسونا،چاندی،مالِ تجارت یا ضرورت سے زیادہ کسی بھی طرح کےسامان اسکی ملکیت میں ہوتواسکافطرانہ اس کے اپنے اوپر واجب ہوتاہےنہ اسکے شوہریاوالدپر۔ہاں نابالغہ بچی کی اگررخصتی نہ ہوئی ہویاہوچکی مگروہ شوہرکی خدمت کے قابل نہ ہواورخودصاحبِ نصاب نہ ہوتواسکافطرانہ اسکے باپ پرواجب ہوتاہےجبکہ باپ صاحبِ نصاب ہو۔
درمختارمیں ہے:(لا عن زوجته) وولده الكبير العاقل، ولو أدى عنهما بلا إذن أجزأ استحسانا للإذن عادة أي لو في عياله وإلا فلا قهستاني عن المحيط فليحفظ۔ترجمہ:بیوی اوربالغ عاقل اولادکی طرف سے صدقہ فطرواجب نہیں اوراگریہ اسکے زیرکفالت ہوں اوربغیرانکی اجازت کے اداکردے تواستحساناجائزہے کہ عادتااسکی اجازت ہوتی ہے ورنہ انکے صدقہ فطرادانہیں ہونگے۔(شامی،کتاب الزکوۃ،صدقۃ الفطر،ج2،ص362،بیروت)
شامی میں ہے:لو سلمت لزوجها لا تجب فطرتها على أبيها لعدم المؤنة اهـ فأفاد تقييد المسألة بقيدين: صلاحيتها للخدمة، وتسليمها للزوج۔ترجمہ:نابالغہ اگرشوہرکے ہاں رخصت ہوچکی تواسکے باپ پراسکافطرانہ واجب نہیں کہ اب اس پراسکانفقہ نہیں تواس عبارت نے باپ پرنفقہ نہ ہونے کیلئےدوقیودات کاافادہ کیا:1)شوہر کی خدمت کے قابل ہو2)شوہرکے ہاں رخصت ہوچکی ہو۔(ایضا)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
13رمضان المبارک 1445ھ/25مارچ 2024 ء