دوست سے صلح نہ کرنے کی قسم کھانا

دوست سے صلح نہ کرنے کی قسم کھانا

سوال:اگرکسی شخص نے مسجد میں کھڑے ہوکرقسم اٹھائی کہ وہ دوبارہ اپنے دوست سے صلح نہیں کرے گامگربعد میں صلح کرنے کاارادہ رکھتاہوتوکیاحکم ہے؟

User ID: Anonymous

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی مسلمان کادوسرے مسلمان سے بلاوجہ شرعی تعلق توڑناناجائزہے اوراس گناہ پر قسم کھانابھی ناجائزہےایسی قسم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ قسم توڑکریعنی صلح کرکے قسم کاکفارہ اداکردے۔ ہاں تعلق توڑنے کی کوئی شرعی وجہ تھی توتعلق توڑنے کاگناہ نہیں،اب بھی قسم توڑکرکفارہ دے سکتاہے۔ہاں اگرایساکرناشرعاواجب تھامثلاکوئی بدمذہب ہوگیاتواب توتعلق بناناجائزنہیں۔بخاری شریف میں ہے:أن رسول الله ﷺ قال:لا يحل لرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال، يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلامترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکسی شخص کیلئے اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ تعلق چھوڑنا جائزنہیں کہ دونوں ملیں تویہ بھی اعراض کرے وہ بھی اعراض کرے اوران میں بہتروہ ہے جوسلا م میں پہل کرے۔(بخاری،کتاب الادب،باب الھجرۃ،ج8،ص21،حدیث:6077،بولاق مصر)مرقاۃ میں ہے:وهو أعم من أخوة القرابة والصحابةترجمہ:لفظِ بھائی میں رشتہ داراوردوست سب شامل ہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الاداب،ج8،ص3146،حدیث:5027،دارالفکر)بحر الرائق میں ہے:(قوله: ومن حلف على معصية ينبغي أن يحنث) ۔۔۔ أي يجب عليه الحنث ل۔۔۔حديث البخاري أيضا «وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فأت الذي هو خير وكفر عن يمينك»۔ ترجمہ:جوگناہ کرنے کی قسم کھا ئے تواس پرقسم توڑناواجب ہے کہ بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے جوکوئی قسم کھائے پھراسکے غیرمیں بھلائی دیکھے تواسے بجالائے اورقسم کاکفارہ دے دے۔(بحرالرائق،کتاب الایمان،ج4،ص316،دارالکتاب الاسلامی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

07شعبان المعظم 1445ھ/19فروری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں