گھر میں رکھے بکروں پرقربانی کی نیت
سوال:اگرکسی نے گھرمیں بکرےپال رکھے ہوں اورقربانی کی نیت سے ہوں توکیاقربانی سے پہلے انکوصدقہ کرسکتے ہیں؟
User ID: Muhammad Bilal
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جانورموجود ہوتواس پرصرف قربانی کی نیت کرلینے سے اسے قربان کرنالازم نہیں ہوتا ہاں اگرزبان سے منت کے الفاظ کہہ دیےمثلا اللہ کیلئے مجھ پر ان بکروں کی قربانی واجب ہے تواب یہ شرعی منت ہےجسے پوراکرنالازم ہے۔نیز اگرفقیرنےانھیں خریدتے وقت عید الاضحی کی قربانی کی نیت کی تھی تواس پر ان دونوں کی قربانی لازم ہوگئی انھیں بیچ نہیں سکتے۔غنی نے اگرانھیں عیدکی قربانی کی نیت سے خریداتویہی قربان کرناواجب نہیں کسی بھی ایک بکرے کی قربانی واجب ہے تاہم جسے پہلے خریدااس سے کم قیمت کے بکرے کی قربانی جائزنہیں۔درمختار میں ہے: (قوله شراها لها) فلو كانت في ملكه فنوى أن يضحي بها أو اشتراها ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك لا يجب، لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر (درمختارمع شامی،کتاب الاضحیہ،ج6،ص321،لبنان)درمختار میں ہے: نذر عشر أضحيات۔۔۔الأصح وجوب الكل۔(ص332)شامی میں ہے: إن كتب المذهب طافحة بصحة النذر بالأضحية من الغني والفقير۔۔۔ أن الأضحية اسم لما يذبح في وقت مخصوص لم يكن فيها إلغاء الوقت، فإذا نذرها يلزم فعلها فيه۔ (ص332-333)درمختار میں ہے: (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا) لتعلقها بذمته بشرائها أولا۔ (ص321)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
30رجب المرجب 1445ھ/11فروری 2024 ء