نابالغ کے پیسے باقیوں میں تقسیم کرنا

نابالغ کے پیسے باقیوں میں تقسیم کرنا

سوال:نابالغ بچے کوجوکہیں سےپیسے ملتے ہیں وہ ماں باپ بچے کی رضامندی سے سب بچوں میں تقسیم کرسکتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کےخیال رکھنے کی عادت ہو؟

User ID: Anonymous

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جورقم نابالغ کی ملکیت ہوتی ہے وہ ماں باپ باقی بچوں میں تقسیم نہیں کرسکتے ۔اگربچے کوخیرخواہی سکھانامقصود ہوتووالدین اپنی رقم دیکراسے صدقہ کرنایادوسروں میں تقسیم کرناسکھائیں۔بہارشریعت میں ہے:باپ کو یہ جائز نہیں کہ نابالغ لڑکے کا مال دوسرے لوگوں کوہبہ کردے اگرچہ معاوضہ لے کر ہبہ کرے کہ یہ بھی نا جائز ہے اور خود بچہ بھی اپنا مال ہبہ کرناچاہے تو نہیں کرسکتایعنی اُس نے ہبہ کردیا اور موہوب لہ کو دیدیا اُس سے واپس لیاجائے گا کہ ہبہ جائز ہی نہیں۔۔۔یہی حکم صدقہ کا ہے کہ نابالغ اپنا مال نہ خود صدقہ کرسکتا ہے نہ اُس کا باپ۔۔۔اگر والدین بچہ کو اس لیے چیز دیں کہ یہ لوگوں کو ہبہ کردے یا فقیر وں کو صدقہ کردے تاکہ دینے اور صدقہ کرنے کی عادت ہواور مال ودنیا کی محبت کم ہو تو یہ ہبہ وصدقہ جائز ہے کہ یہاں نابالغ کے مال کا ہبہ وصدقہ نہیں بلکہ باپ کا مال ہے اور بچہ دینے کے لیے وکیل ہے جس طرح عموماًدروازوں پر سائل جب سوال کرتے ہیں توبچوں ہی سے بھیک دلواتے ہیں۔(بہارشریعت،ہبہ کابیان،ج3،ح14،ص82،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

17شبان المعظم 1445ھ/28فروری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں