ایامِ مخصوصہ لگاتارجاری رہیں
سوال:ایک ماں کاسوال ہے کہ انکی بیٹی کوزندگی میں پہلی بارحیض آناشروع ہواہے مگراسکے حیض رک نہیں رہے کبھی ایک دن کیلئے رک جاتے ہیں پھرخون کےدھبے آناشروع ہوجاتے ہیں توبچی کیلئے نمازروزے کاکیاحکم ہے؟
User ID: Muhammad Arshad
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جب یہ بچی مبتدئہ(طہروحیض کی پرانی کوئی عادت نہیں)ہےاوراسکاپندرہ دن تک خون رکتانہیں ہے تویہ جاری خون کے حکم میں ہے ایسی صورت میں جب سےیہ خون شروع ہوااس وقت سے دس کامل دن رات کوحیض شمارکیاجائے گااسکے بعدغسل کرلےکہ اب بیس دن پاکی کے ہیں جس میں نمازوروزہ فرض ہے(استحاضہ کے خون سے وضو ٹوٹتاہے)۔جب تک طہرِ کامل نہ ہو(پندرہ دن تک خون نہ رکا) ہرماہ یہی حکم ہے۔
بخاری ومسلم کی متفق علیہ حدیث ہے: عن عائشة قالت: جاءت فاطمة بنت أبي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إني امرأة أستحاض فلا أطهر أفأدع الصلاة فقال رسول اللهﷺ: «لا إنما ذلك عرق وليس بحيض فإذا أقبلت حيضتك فدعي الصلاة وإذا أدبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي»۔حضرتِ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ مجھے حیض آتاہے توپاک ہی نہیں ہوتی کیانمازچھوڑدوں توحضورﷺ نے فرمایایہ رگ کاخون ہے حیض نہیں تم ایامِ حیض میں نمازچھوڑدواسکے بعدغسل کرکے نمازپڑھو۔(مشکوۃ،کتاب الطہارۃ،باب المستحاضہ، ج1ص175،ح557،بیروت)
شامی میں ہے:إذا وقع في المبتدأة فحيضها من أول الاستمرار عشرة وطهرها عشرون۔جسے پہلی بارحیض آیاتوجب سے جاری ہے اسکے دس دن حیض کے ہیں اوربیس پاکی کے۔(شامی،کتاب الطہارۃ،ج1،ص286،بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
19شعبان المعظم 1445ھ/29فروی 2024 ء