امام نے اکیلے نمازپڑھنے والوں سے کہانمازتوڑدو

امام نے اکیلے نمازپڑھنے والوں سے کہانمازتوڑدو

سوال:امام صاحب تاخیر سے آئے نمازی اپنی اپنی فرض نمازشروع کرچکے تھے توانھوں نے زورسے کہانمازتوڑدو ایسی صورت میں کیاحکم ہے؟

User ID: Mukhtar Ahmad Ghanjera

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

امام صاحب کاتاخیر سے آنے پراکیلے فرض نما زپڑھنے والوں سے یوں کہناکہ نمازتوڑدوجائزنہیں کہ جوشخص اکیلے فرض نمازپڑھ رہاہواسکے لئے مختلف نمازوں میں مختلف رکعتوں میں ہونے کی صورت میں احکام الگ ہیں اورنماز توڑنے کی اجازت بھی جماعت کے شروع ہونے کے وقت ہے نہ کہ اقامت کے وقت چہ جائیکہ امام کے اعلان سے۔امام صاحب کوچاہئے تھا کہ اگرکوئی اقامت والاموجود نہیں تھا توخود ہی اقامت کہہ کرنمازشروع کردیتے اب جسکے لئے شریعت کا جو حکم ہوتاوہ اس پر عمل کرلیتاہے۔ اگراکیلے فرض پڑھتے ہوئے جماعت شروع ہوجائے تویہ احکام ہیں:(1)اگر پہلی رکعت میں ہے توکھڑے کھڑے ایک سلام کے ساتھ نماز توڑکر جماعت میں شامل ہو۔(2) اگر پہلی رکعت کا سجدہ کر لیاتھاتو فجر اور مغرب میں سجدوں کے بعدایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے اور ظہر، عصر اور عشاء میں دو رکعتیں مکمل کر کےجماعت میں شامل ہو۔(3)اگر دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا تھاتوفجر اور مغرب میں نماز مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو اور ظہر، عصر اور عشاء میں دو رکعتیں مکمل کر کےجماعت میں شامل ہو ۔(4)اگر تیسری رکعت میں ہے اور جماعت کھڑی ہو ئی تو ظہر ، عصر اور عشاء میں توکھڑے کھڑے ایک سلام کے ساتھ نماز توڑ دے اور جماعت میں شامل ہو اور مغرب میں نماز پوری پڑھے اور جماعت میں شامل نہ ہو۔(5)اگر تیسری رکعت کا سجدہ کر لیااور جماعت شروع ہوئی تو ظہراور عشاء میں چار رکعتیں مکمل کر کے نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو اور عصر میں چار رکعتیں مکمل کرے اور جماعت میں شامل نہ ہو کہ عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔درمختار میں ہے:(شرع فیھا اداء)خرج النافلۃ والمنذورۃ والقضا فانہ لا یقطعھا (منفرداثم اقیمت) ای شرع فی الفریضۃ فی مصلاہ،لا اقامۃ الموذن،ولا الشروع فی مکان وھو فی غیرہ(یقطعھا)۔۔۔الخ(شامی،کتاب الصلوۃ، ج2،ص50-53،بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

13جمادی الاخری 1445ھ/27دسمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں