مسجد میں پیسے دینے کی منت
سوال:ایک عورت نے کہا میری زمین بکی توپیسےمسجد میں دوں گی اب زمین بک گئی کیاسارے پیسے مسجد میں دینے ہوں گے کیایہ منت ہےاوراسکاپوراکرناضروری ہے؟
User ID: Muhammad Mohsin
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسجد میں پیسے دینے کی منت شرعی منت نہیں کہ اسکی جنس سے کوئی عبادت واجب نہیں لہذااسکوپوراکرناواجب تونہیں ہےتاہم مسجد کی خدمت کرنابہت ثواب کاکام ہے اس منت کوبھی پوراکرنااچھاہے۔تنویرالابصارمیں ہے: ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب وهو عبادة مقصودةووجد الشرط لزم الناذر كصوم وصلاة وصدقة۔ ترجمہ:جس نے مطلق منت مانی یاکسی شرط کیساتھ منت کومعلق کیا اوراسکی جنس سے کچھ واجب بھی ہو اس حال میں کہ یہ عبادتِ مقصودہ ہوتوشرط پائے جانے پر منت والے پراسکوپوراکرنالازم ہوگاجیسےروزہ،نماز،صدقہ۔(شامی،کتاب الایمان، ج3،ص735،بیروت)منحۃ الخالق میں ہے: قال في البدائع: ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض وتشييع الجنازة والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا؛ لأنها غير مقصودة ترجمہ:بدائع میں فرمایا:اس کی شرائط میں سے قربت مقصودہ ہوناہےکہ مریض کی عیادت،جنازے کے ساتھ چلنے،وضووغسل کرنے، مسجد میں داخل ہونے،قران پاک کوچھونے،اذان دینے،اصطبل اور مساجد وغیرہ بنانے کی منت نہیں ہوتی اگرچہ یہ عبادتیں ہیں لیکن مقصودہ نہیں۔(بحرمع منحۃ الخالق،کتاب الایمان،ج4،ص321،دارالکتاب الاسلامی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
12جمادی الاخری 1445ھ/26دسمبر 2023 ء