زیادہ کام کی وجہ سے درزی وغیرہ کا تراویح نہ پڑھنا
سوال:مفتی صاحب، اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک میں کاروبار کی مصروفیات کی وجہ سے تراویح کی نماز نہ پڑھ سکے مثلاً ان دنوں درزی کے پاس بہت زیادہ کام ہوتا ہے جسے اس نے ہر صورت عید سے قبل مکمل کرنا ہے بعض أوقات وہ سحری تک کپڑے بناتا رہتا ہے، تو کیا ایسی صورت میں تراویح نہ پڑھنے پر وہ گنہگار ہوگا ؟
(سائل:افضال)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
عاقل بالغ مرد و عورت کے لیے نمازِ تراویح سنت مؤکدہ ہے، اور عادۃ سنت مؤکدہ چھوڑنے والا گنہگار ہوتا ہے، لہذا درزی وغیرہ کو کام کاج یا کسی کو بھی کاروبار، ڈیوٹی کی وجہ سے نماز تراویح چھوڑنے کی اجازت نہیں، البتہ ایک آدھ یا دو مرتبہ چھوڑنے پر گناہ نہیں، نیز یہاں یہ گنجائش ہے کہ ہر ایک پر تراویح جماعت سے پڑھنا لازم نہیں لہذا اگر ایسا شخص کام کاج کے سبب جماعت سے نہیں پڑھ سکتا تو اسے چاہیے صبح طلوع فجر سے قبل وقت نکال کر اکیلے ہی پڑھ لے تراویح ہو جائے گی۔
در مختار میں ہے : (التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا . یعنی تراویح مردوں و عورتوں کے لیے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے خلفائے راشدین کے اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کی وجہ سے۔
[ الدر المختار شرح تنوير الأبصار ، کتاب الصلاۃ ، باب الوتر والنوافل، صفحة ٩٤ ]
علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں:وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله أن التراويح سنة لا يجوز تركها، وقال الشهيد: هو الصحيح. وفي جوامع الفقه التراويح سنة مؤكدة. یعنی امام حسن علیہ الرحمتہ نے امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمتہ سے روایت کیا ہے کہ تراویح سنت ہے اسکو ترک کرنا جائز نہیں، اور امام صدر الشہید علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں یہی صحیح ہے، اور جوامع الفقہ میں ہے تراویح سنت مؤکدہ۔
[ البناية شرح الهداية، كتاب الصلاۃ ،فصل فی قیام شھر رمضان، حکم صلاۃ التراويح ،550/2 ]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
11 رمضان المبارک 1445ء 22 مارچ 2024ھ