سوتیلی اولاد کو زکوۃ و فطرہ دینا
سوال:مفتی صاحب، کیا کوئی شخص اپنی سوتیلی اولاد (جو بیوی کے پہلے شوہر جو فوت ہو گیا تھا، اس سے ہے) کو زکوٰۃ یا فطرہ دے سکتا ہے، یا اپنی حقیقی اولاد کی طرح انکو بھی نہیں دے سکتا؟
(سائل:محمدحنان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے صرف اُنکو زکوۃ و فطرہ نہیں دے سکتے ،جنکے ساتھ ولادت یا زوجیت کا رشتہ ہے، جیسے والدین ،اولاد پوتے،نواسے اور میاں بیوی، اسکے علاوہ دیگر رشتہ داورں کو دے سکتے ہیں ،پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکورہ شخص کا اپنی بیوی کی سابقہ اولاد کے ساتھ ولادت و زوجیت کا کوئی رشتہ نہیں لہذا یہ شخص اپنی سوتیلی اولاد کو زکوۃ و فطرہ دے سکتا ہے، جبکہ وہ زکوۃ کے حقدار ہوں۔
درمختار میں مع ردالمحتار میں ہے : (ولا الی من بینھما ولاد…..او بینھما زوجیۃ)…..وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. یعنی جن کے مابین ولادت یا زوجیت کا رشتہ ہو،وہ ایک دوسرے کو زکاۃ نہیں دے سکتے….رشتہ ولادت کی قید لگائی ،کیونکہ ان کے علاوہ باقی رشتہ داروں کو زکاۃ دینا جائز ہے جیسےفقراء بہن بھائی، چچا، ماموں وغیرہ۔
[الدر المختار وحاشية ابن عابدين، کتاب الزکوۃ،باب مصرف الزکاۃ والعشر، ٣٤٦/٢]
فتاوی رضویہ میں ہے : اپنی بہو یا داماد یا ماں کا شوہر یا باپ کی عورت یا اپنے زوج یا زوجہ کی اولاد….کو بھی دینا روا ہے۔
(فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 110، رضافاؤنڈیشن ، لاہور)
بہار شریعت میں ہے : بہو اور داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو دے سکتا ہے۔
( بہار شریعت، جلد1 ، حصہ 5، مکتبۃالمدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
07 رمضان المبارک 1445ء 18 مارچ 2024ھ