بزرگوں کا اپنے مُرشد کے دیدار کو حج کے برابر کہنا اور در مرُشد کو خانہ کعبہ کہنا

بزرگوں کا اپنے مُرشد کے دیدار کو حج کے برابر کہنا اور در مرُشد کو خانہ کعبہ کہنا

سوال:مفتی صاحب، یہ شعر پڑھنا کیسا، مرشد دا دیدار وے باہو مینوں لَکھ کروڑاں حجاں، اسکی مراد بھی بتا دیں ، نیز در مُرشد دا خانہ کعبہ ،اسکی بھی وضاحت کر دیں؟

(سائل:حذیفہ شارخ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

یہ شعر، مشہور صوفی بزرگ حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے ہیں،اورعموماً صوفیاء کے اشعار ایسے پوشیدہ معانی و مطالب پر مشتمل ہوتے ہیں جو عام آدمی کی فہم سے دور ہوتے ہیں، لہذا عام عوام کو اس طرح کے کلام میں گفتگو سے قبل کسی مستند عالم دین کی رہنمائی لینابے حد ضروری ہے ، شیخ سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ نے اس کلام میں اپنے پیر و مرشد کے دیدار کی تڑپ میں اس تمنا کا اظہار کیا کہ میرا سارا جسم آنکھ بن جائے اور میں سارے جسم سے اپنے پیرو مرشد کا دیدار کروں ، جسم کے ہر ہر بال پر لاکھ لاکھ آنکھیں لگی ہوں، ایک آنکھ بند کروں، ایک کھولوں پھر بھی دل نا بھرے، مرشد کا دیدار میرے لئے لاکھوں کروڑوں حج کرنے جیسا ہے۔ یہاں دو وجہیں ہو سکتی ہیں :

تشبیہ : اس کلام میں شیخ علیہ الرحمۃ نے کامل مُرشد کے دیدار کو حج سے تشبیہ دی (یعنی حج جیسا کہا)ہے۔ اپنی لاکھوں کروڑوں آنکھوں سے دیدارِ مرشد کی تمنا کرنے اور پھر ان کروڑوں آنکھوں سے کیے گئے دیدارِ مرشد کو لاکھ کروڑ حج کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح حج کرنے سے معرفتِ خداوندی نصیب ہوتی ہے یونہی کامل مرشد کی صحبت و دیدار سے اللہ پاک کی معرفت و محبت حاصل ہوتی ہے جس سے عبادت کا ذوق پیدا ہوتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مراد ہر گز یہ نہیں کہ مرشد کا دیدار کرنے سے حج ہو جاتا ہے، اب حج کی ضرورت نہیں اور حج کرنے کی بجائے بندہ مرشد کا دیدار ہی کر لے، ایسا تو کسی عام بندے سے بھی متصور نہیں، اللہ کے ولی سے ایسا گمان کیونکر کیا جا سکتا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھیں کہ جس طرح والدین کی زیارت کرنے سے حج ادا نہیں ہوتا بلکہ وہ ثواب مل جاتا ہے جو حج كرنے سے ملتا ہے (جیسا کہ روایات سے ثابت ہے) یونہی مرشد کی زیارت سے حج ادا نہیں ہوتا بلکہ وہ معرفت مل جاتی ہے جو کعبہ شریف کی زیارت یا حج سے ملتی ہے (یہ مشاہدات اور بزرگوں کے اقوال سے ثابت ہے)

مجا ز : بعض اوقات کسی بزرگ ہستی مثلاً، استاد، پیر، عالم وغیرہ کو بطورِ مجاز، احتراما و تعظیما قبلہ و کعبہ کہہ دیا جاتا ہے جو شرعاً جائز ہے اور عموماً ہمارے ہاں یوں بولا بھی جاتا ہے، اور شعراء اپنے کلام میں بکثرت مجاز کا استعمال کرتے ہیں ، تو یہ کہا جا سکتا ہے یہاں شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے بطورِ مجاز احتراما و تعظیما اپبے مرشد یا مرشد خانے کو کعبہ کہا اور انکے دیدار اور حاضری کو حج کہا۔

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

18 شعبان المعظم 1445ء 29 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں