اگر میں نے فلاں کام کیا میری بیوی مجھ پر حرام،کہنے کا حکم

اگر میں نے فلاں کام کیا میری بیوی مجھ پر حرام،کہنے کا حکم

سوال:مفتی صاحب، اگر ایک شخص نے دوسرے کو قرض دیا اب مقروض نے دوسرے شخص کو پیسہ دیتا ہے ٹال مٹول کے بعد بڑی مشکل سے قرض وآپس دیا، اپنا قرض وصول کرتے وقت قرض خواہ نے کہا اگر اب میں آپ کو پیسے دوں تو میری بیگم میرے پر حرام ہے، تو کیا اس طرح کہنے سے اسکی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی؟

(سائل:محمد احمد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

مذکورہ شخص کا یوں بولنا طلاق کی تعلیق ہے یعنی اب اگر ایسا بولنے والےشخص نے اُس مقروض کو پیسے دیے تو اُسکی بیوی کو ایک طلاق بائن ہوجائے گی،اور طلاق بائن میں عورت نکاح سے نکل جاتی ہے، اس صورت میں مذکورہ شخص کو اپنی بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا ہو گا جبکہ اس سے قبل اُس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں نہ دیں ہوں ورنہ بغیر حلالہ نکاح نہیں کر سکتا۔

ہدایہ شریف اور دیگر متعدد کتب فقہ میں ہے : وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق. یعنی جب طلاق کو کسی شرط کی طرف مضاف کیا ،تو شرط پائے جانے کے بعد طلاق واقع ہو جائے گی، جیسے مرد اپنی عورت سے کہے کہ اگر تو گھر میں داخل ہوئی ،تو تجھے طلاق۔ [الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الطلاق ،باب الأيمان فى الطلاق، ٢٤٤/١]

ردالمحتار میں ہے:أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأ نه طلاق بائن للعرف بلا نية. یعنی متاخر علماء نے یہی فتوی دیا کے عورت کو یہ کہنا کہ تو مجھ پر حرام ہے اس سے بغیر نیت کے ایک طلاق بائن واقع ہو گی،عرف کے سبب۔

[ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين،کتاب الطلاق ،باب صریح الطلاق،٢٥٢/٣]

بہار شریعت میں ہے: اپنی عورت سے کہا تو مجھ پر حرام ہے تو ایک بائن طلاق ہوگی اگرچہ نیت نہ کی ہو۔

(بہار شریعت،طلاق کا بیان،جلد2،حصہ8،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

13 شعبان المعظم 1445ء 24 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں