بیٹی ،بھتیجوں اور بھانجوں کی وراثت

بیٹی ،بھتیجوں اور بھانجوں کی وراثت

سوال:مفتی صاحب، ایک شخص کا انتقال ہوا انہوں نے اپنے پیچھے ایک بیٹی، تین بھتیجے، ایک بھتیجی، دو بھانجے اور ایک بھانجی کو چھوڑا، اب وراثت میں کس کو کتنا ملے گا؟

(سائل:شکیل رضا)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

اگر میت کی بیوی، والدین، بیٹا پوتا، دادا اوربہن بھائی نہیں تو میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور جائز وصیت کی صورت میں باقی ماندہ مال کے تیسرے حصے سے وصیت کی ادائیگی کے بعد، میت کی کل جائیدادکے 6 حصے کر کے3حصے بیٹی کو اور بقیہ 1، 1،1 تینوں بھتیجوں کو ملیں گے ۔بھتیجی، بھانجے اور بھانجی کو کچھ نہ ملے گا۔ بیٹی کی وراثت کے متعلق قرآن پاک میں ہے : وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ ترجمہ : اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے۔[ القرآن، سورۃ النساء، آیت 11 ]

الاختیار لتعلیل المختار، میں بقیہ مال لینے والے ،عصبات کی وراثت کے متعلق ہے : واقربھم جزء المیت وھم بنوہ ثم بنوھم وان اسفلو ثم أصله وهو الأب، ثم الجد، ثم جزء أبيه، ثم بنوهم. [الاختيار لتعليل المختار، کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، الجزء الخامس] در مختار میں ہے : أن ابن الأخ لا يعصب أخته كالعم لا يعصب أخته…بل المال للذكر دون الأنثى لأنها من ذوي الأرحام.یعنی چچا کی طرح بھتیجا بھی اپنی بہن کو عصبہ نہیں بناتا بلکہ سارا مال مذکر کے لیے ہو گا۔ [الدر المختار،کتاب الفرائض،فصل فی العصبات، ٧٨٣/٦]

فقہی اصطلاح میں بھتیجے عصبات اور بھانجھے ذوی الارحام میں شمار ہوتے ہیں ،اور ذوی الارحام کے متعلق بحرالرائق میں ہے : فلا يرثون ( ذوي الأرحام) مع أحد من العصبات. [البحر الرائق شرح كنز الدقائق،کتاب الفرائض ،انواع الحجب، ٥٧٥/٨]

مسئلہ از 2 X 6 = 3

میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

بیٹی بھتیجا بھتیجا بھتیجا بھتیجی بھانجا بہانجی

1/2 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــحروم

1x 3=3 1 3=3 x

3 1 1 1

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

05 شعبان المعظم 1445ء 16 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں