مار خُور کھانا حلال ہے یا حرام؟

مار خُور کھانا حلال ہے یا حرام؟

سوال:مفتی صاحب، کیا مارخور کھانا حلال ہے؟

(سائل:فیصل شیخ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

مارخور،بکرے کی طرح کا ہی ایک جنگلی جانور ہے جو جسامت میں پالتو بکرے سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے ،بعض علاقوں میں اسے پہاڑی بکرا یا جنگلی بکرا بھی بولتے ہیں،یہ پالتو بکرے کی طرح ہی گھاس پھونس کھانے والا چوپایہ ہے،شرعا اسے کھانا حلال ہے، کیونکہ فقہی اُصول کے مطابق نوکیلے شکاری دانتوں والا یا مُردار کھانے والا چوُپایہ حرام ہے، جبکہ مارخُور میں یہ دونوں چیزیں نہیں،لہذایہ حلال ہے۔

صحیح مسلم شریف میں ہے : عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كل ذي ناب من السباع فأكله حرام . یعنی روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر کیل والا درندہ اس کا کھانا حرام ہے۔

[مسلم، صحيح مسلم،كتاب الصيد والذبائح، ١٥٣٤/٣]

ملتقی الابحر مع شرح مجمع الانھر میں ہے:(ويحرم أكل كل ذي ناب أو مخلب من سبع أو طير)….والمراد من ذي ناب الذي يصيد بنابه ومن ذي مخلب الذي يصيد بمخلبه. [مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ،كتاب الذبائح، 2/512 ]

ردالمحتار میں ہے : وفي الكفاية: والمؤثر في الحرمة الإيذاء وهو تارۃ يكون بالناب وتارة يكون بالمخلب أو الخبث.

[ابن عابدين،الدر المختار وحاشية ابن عابدين،کتاب الذبائح، 6/304]

ماہنامہ فیضان مدینہ (سلسلہ دارالافتاء اہلسنت) میں ہے : مارخور بکرے سے بڑا ایک جنگلی جانور اور گھاس پھونس کھانے والا چوپایہ ہے، یہ حلال ہے، اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ [ماہنامہ فیضان مدینہ محرم الحرام1441ھ، ستمبر 2019]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

01 شعبان المعظم 1445ء 12 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں