امام نے پانچ رکعت پڑھا دیں تو کیا دوسری رکعت میں شامل ہونے والے مقتدی کی نماز مکمل ہو گی؟

امام نے پانچ رکعت پڑھا دیں تو کیا دوسری رکعت میں شامل ہونے والے مقتدی کی نماز مکمل ہو گی؟

سوال:مفتی صاحب، امام نے غلطی سے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، تو جو مسبوق دوسری رکعت میں شامل ہوا تھا اس کی امام کے ساتھ چار رکعتیں مکمل ہوگئیں، اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

(سائل:اکرام رضا)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

♦ اولا ایسی صورت میں مقتدیوں کو چاہیے کہ امام کو لقمہ دیں تا کہ وہ وآپس آجائے،نیز اگرامام چوتھی رکعت پر قعدہ کر کے کھڑا ہواور وآپس نہ آئے تو مسبوق کو چاہیے کہ اپنی بقیہ نماز اکیلے مکمل کر لے،کیونکہ امام کی نماز تو مکمل ہو چُکی اب امام اگر وآپس نہ بھی آئےپانچویں چھٹی رکعت اُسکے لیے نفل ہو جائے گی،جبکہ مسبوق کے تو ابھی فرض ہی باقی تھے لہذا مسبوق پانچویں رکعت میں امام کی اتباع نہیں کر سکتا۔

♦ اگر امام نے چوتھی پر قعدہ نہ کیا تھا اور پانچویں کا سجدہ بھی کر لیا تو پھرامام ،مسبوق اورتمام،مقتدیوں میں سے کسی کی بھی فرض نماز نہ ہوئی،لہذا سب نے فرض دوبارہ پڑھنے ہیں۔

فتاوی ہندیہ ، دُرر الحکام اور البحر الرائق میں ہے : ولو قام الإمام إلى الخامسة في صلاة الظهر فتابعه المسبوق إن قعد الإمام على رأس الرابعة تفسد صلاة المسبوق، وإن لم يقعد لم تفسد حتى يقيد الخامسة بالسجدة فإذا قيدها بالسجدة فسدت صلاة الكل؛ لأن الإمام إذا قعد على الرابعة تمت صلاته في حق المسبوق فلا يجوز للمسبوق متابعته.

[البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،كتاب الصلاة ،باب الحدث في الصلاة، ٤٠١/١]

بہار شریعت میں در مختار کے حوالے سے ہے : امام قعدۂ اخیرہ کے بعد بھول کر پانچویں رکعت کے لیے اُٹھا، اگر مسبوق امام کی قصداً متابعت کرے، نماز جاتی رہے گی اور اگر امام نے قعدۂ اخیرہ نہ کیا تھا، تو جب تک پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرلے گا، فاسد نہ ہوگی۔ [بہارشریعت ، جماعت کے مسائل، جلد 1 ، حصہ 3 ، مکتبۃالمدینہ ]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

26 رجب المرجب 1445ء 07 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں