امام صاحب قعدہ اولی بھول گئے اور کھڑے ہونے لگے تو رکوع کی مقدار پہنچنے پر مقتدی نے لقمہ دیا تو امام لقمہ لے کر قعدہ میں آگئے تو ایسا کرنا کیسا؟

امام صاحب قعدہ اولی بھول گئے اور کھڑے ہونے لگے تو رکوع کی مقدار پہنچنے پر مقتدی نے لقمہ دیا تو امام لقمہ لے کر قعدہ میں آگئے تو ایسا کرنا کیسا؟

امام قعدہ اولی بھول گیا اور کھڑے ہونے کے قریب ہوگیا تو راجح قول کے مطابق اس کوواپس لوٹنے کا حکم ہے،لہذا ایسی صورت میں مقتدی کا لقمہ دینا بھی جائز ہے اور امام کا لقمہ لے کر واپس لوٹنا بھی جائز ہے البتہ آخر میں سجدہ سہوکرنا واجب ہوگا۔امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:” اگر ابھی قعود سے قریب ہے کہ نیچے کا آدھا بدن ہنوز سیدھا نہ ہونے پایا جب تو بالاتفاق لوٹ آئے اور مذہب اصح میں اس پر سجدہ سہو نہیں اور اگر قیام سے قریب ہوگیا یعنی بدن کا نصف زیریں سیدھا اور پیٹھ میں خم باقی ہے تو بھی مذہب اصح و راجح میں پلٹ آنے ہی کا حکم ہے، مگر اب اس پر سجدہ سہو واجب۔“

(فتاوی رضویہ،جلد8،صفحہ181)

اپنا تبصرہ بھیجیں