ایک شخص نے عمرہ ادا کرلیا مگر طواف کے نوافل ادا نہیں کئے تو اب کیا حکم ہے؟
سنت یہ ہے کہ اگر مکروہ وقت نہ ہو توطواف کے بعد کےنوافل طواف کے فورا بعد پڑھے جائیں،ان میں فاصلہ نہ ہو لیکن اگر کسی نے نہ پڑھے یہاں تک کہ عمرہ بھی اد اکرلیا تو اب بھی ان نوافل کا وقت باقی ہے،غیر مکروہ وقت میں ان کو ادا کرلے کیونکہ ان نوافل میں قضا نہیں،عمر میں جب بھی پڑھے گا ادا ہی ہوں گے مگر قصدا ایسا کرنا مکروہ ہے۔مناسک میں ہے:”ولا تختص ای ھذہ الصلاۃ بزمان ولا مکان ای باعتبار الجواز و الصحۃ والا فباعتبارالفضیلۃ تختص بوقوعھا عقیب الطواف ان لم یکن وقت کراھۃ۔۔والسنۃ الموالاۃ بینھا و بین الطواف“یعنی:یہ نماز جواز اور صحیح ہونے کے اعتبار سےوقت یا مقام کے ساتھ خاص نہیں البتہ فضیلت کے اعتبار سے طواف کے فورا بعد ہونے کے ساتھ خاص ہے جبکہ وقت کراہت نہ ہو،اور سنت یہ ہے کہ نوافل و طواف میں فاصلہ نہ ہو۔
(ارشاد الساری الی مناسک،صفحہ219)