کیا عدت میں نکاح ہوسکتا ہے؟یہ بھی بتا دیں کہ حائضہ کی عدت طلاق کتنی ہے؟اگرحائضہ مطلقہ کہے کہ میری عدت مکمل ہوگئی تو کیا اس کی بات مانی جائے گی؟
عدت میں نکاح کرنا حرام اور ہمبستری زنا ہے۔حائضہ(جس کو حیض آتا ہو) حاملہ(pregnant) ہوتو اس کی عدت وضع حمل(ڈیلوری ہوجانا) ہے اور حاملہ نہ ہوتواس کی عدتِ طلاق تین حیض ہے۔حائضہ مطلقہ(طلاق یافتہ) اگر کہے کہ میری عدت پوری ہوگئی تو اگر کم از کم ساٹھ(60) دن گزر گئے ہوں تو قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگاکیونکہ تین حیض گزرنے کی فقہا نے کم از کم مدت 60 دن قرار دی ہے۔عدت میں نکاح سے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے:” اگربکر نے یہ جان بوجھ کر کہ ابھی عورت عدت میں ہے اس سے نکاح کرلیا تھا جب تو وہ نکاح نکاح ہی نہ ہوا زنا ہوا۔“
(فتاوی رضویہ،جلد13،صفحہ302)
حاملہ کی عدت سے متعلق قرآن پاک میں ہے:” وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّؕ“ترجمہ:اور حمل والیوں کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں۔
(الطلاق:4)
اور حائضہ غیر حاملہ کی عدت سے متعلق ہے:” وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍؕ“ترجمہ: اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین حیض تک روکے رکھیں۔
(البقرہ:228)
درمختار میں عورت کے قول سے متعلق ہے:”ولوبالحیض،فاقلھالحرۃ ستون یوما“یعنی:اگر عدت حیض کے حساب سے ہوتو آزاد عورت کے لئے کم سے کم مدت ساٹھ دن ہے(جس پر اس کی تصدیق کی جائے گی)۔ (درمختار مع شامی،جلد5،صفحہ210)
فتاوی رضویہ میں ہے:” اور جو بعد گزرنے دو مہینے یعنی ساٹھ دن کے ہوا اور ہندہ دعوی کرے کہ تین حیض کامل اس وقت تک گزر چکے اور عدت منقضی ہوگئی تھی تو قول ہندہ بقسم معتبر ہوگا۔“
(فتاوی رضویہ،جلد13،صفحہ321)
نوٹ:یہ فتاوی معلوماتی ہے کسی خاص فرد سے متعلق نہیں کیونکہ جب تک کسی خاص شخص کے حوالے سے مکمل معلومات و ثبوت حاصل نہ ہوجائے اس کے متعلق فتوی نہیں دیا جا سکتا۔