والدین اگر کسی رشتے دار سے قطع تعلقی کا حکم دیں تو کیا کیا جائے؟

والدین اگر کسی رشتے دار سے قطع تعلقی کا حکم دیں تو کیا کیا جائے؟

والدین کی اطاعت صرف جائز باتوں میں فرض ہے،اگر وہ ناجائز کام کا حکم دیں تو ان کی اطاعت نہ کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ حقیقتا اللہ پاک کی اطاعت ہے،لہذا والدین اگر بلا اجازت شرعی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کا حکم دیں تو ان کی بات نہ مانی جائے اور ان کو احسن انداز میں سمجھایا جائے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ“ترجمہ:اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ توکسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کی بات نہ مان۔

(العنکبوت:8)

تفسیر:” اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرعی احکام کے مقابلے میں کسی رشتہ دار کا کوئی حق نہیں ، لہٰذا اولاد پر لازم ہے کہ شریعت کی طرف سے اجازت کے بغیر صرف ماں باپ کے کہنے پر شرعی احکام مثلاً روزہ وغیرہ رکھنا نہ چھوڑے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اطاعت ِوالدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مُرتکِبِ کبیرہ ہوں ، ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتا، ہاں اگروہ کسی ناجائز بات کاحکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائزنہیں ، لَاطَاعَۃَ لِاَحَدٍ فِیْ مَعْصِیَۃِاللہ تَعَالٰی ( الله تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی بھی شخص کی اطاعت نہیں کی جائے گی ماں باپ اگرگناہ کرتے ہوں ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے، اگرمان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ ان کے لئے دعا کرے۔۔الخ“

(تفسیر صراط الجنان،جلد7،صفحہ346)

اپنا تبصرہ بھیجیں